ماں باپ کے حقوق

ماں باپ کے حقوق

شھید عبدالحسین دستغیب

کسی نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے سوال کیا کہ باپ کا کیا حق ہے؟ فرمایا، جب تک وہ زندہ ہے اس کی اطاعت کرنا، پھر پوچھا کہ ماں کا کیا حق ہے؟فرمایا، اگر صحراؤں میں ریت کے ذرات کے برابر اور بارش کے قطرات کی مقدار میں بھی اگر ماں کی خدمت سرانجام دی جائے تو پھر بھی شکم مادر میں ایک دن بھی رہنے کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ (مستدرک الوسائل)۔

ایک جوان اور اس کی اپاھج ماں

روایت ہے کہ ایک آدمی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) میری ماں ہاتھ پیر سے معذور ہے۔ وہ اپنی جگہ سے خود ہل نہیں سکتی۔ میں اس کے پیٹھ پر بٹھاتا ہوں، اس کے منہ میں نوالہ دیتا ہوں، اس کی گندگی کو پاک و صاف کرتا ہوں، کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا؟

آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا، نہیں۔ کیونکہ تم اس کے پیٹ میں مدتوں رہے۔ اس کے جسم سے تم کو کھانے اور پینے کی اشیاء فراہم ہوتی رہیں۔ اس کے ہاتھ پیر مسلسل تمہاری حفاظت کے لیے استعمال ہوئے ۔ ان زحمات کے باوجود یہ تمہاری درازیٴ عمر کے لیے تمنا کرتی رہی۔ لیکن تم ہو کہ آرزو رکھتے ہو کہ وہ دنیا سے رخصت ہو جائے تا کہ تم کو اس کی فکر سے آزادی مل جائے۔

آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ماں کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم مستحبّی نماز پڑھ رہے ہو اور اسی اثناء میں باپ نے تم کو بلایا تو نماز قطع نہ کرنا، لیکن ماں اگر بلائے تو تم نماز چھوڑ دو۔

جی ہاں، ماں کی عظمت و عزت بہت زیادہ ہے۔ جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء نے ارشاد فرمایا:الْجَنَّةُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّھاتِ ۔"بہشت کی تلاش میں دور جانے کی ضرورت نہیں، بہشت تو ماؤں کے قدموں تلے موجود ہے۔"
والدین مسلمان ہوں یا کافر، انکے ساتھ نیکی کرو

والدین مومن و عبادت گزار ہوں یا کافر و خطا کار، بلا تفریق ان کے حق میں نیکی کرنا واجب ہے اور ان کا عاق ہونا حرام ہے۔ چنانچہ سورہٴ لقمان کی پندرہویں آیت میں ارشاد ہو تا ہے:
وَاِنْ جَاھَداکَ عَلٰی اَن تُشْرِکَ بِی مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلِمٌ فَلا تُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفاً۔
"اگر تیرے ماں باپ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرا شریک ایسی چیز کو قرار دے، جس کا تجھے کچھ علم نہیں ، تو ان کی اطاعت نہ کر، (مگر ان کو تکلیف نہ پہنچانا) اور دنیا کے کاموں میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا جو کہ شرعِ مطہر کی نظر میں پسندیدہ اور مقتضائے رحم و کرم ہو۔"

سُنّی ماں باپ کے لیے دعا

معمر بن خلّاد نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے پوچھا اگر میرے ماں باپ حق کی پیروی کرنے والے اور شیعہ نہ ہوں تو کیا پھر بھی ان کے حق میں دعا کرنا جائز ہے؟
آپ (علیہ السلام) نے فرمایا، ہاں۔ اگر وفات پا گئے ہوں تو ان کے حق میں دعا کرو، ان کے نام پر صدقہ دو اور اگر زندہ ہوں تو ان کی دل جوئی کرو اور خوش رکھو۔

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِیْ بِالرَّحْمَةِ لَا بِالعُقُوْقِ
"اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمةٌ للعالمین بنا کر بھیجا مگر عاق میں۔"

جناب جابر نے کہا کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے والدین حق کے مخالف ہیں۔ یعنی شیعہٴ اہل بیت (علیہم السلام) نہیں ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان کے حق میں ایسی ہی نیکی کرو جیسے تم ہمارے شیعوں کے ساتھ نیکی کرتے۔ (اصول کافی)۔تین چیزوں میں مومن و کافر برابر ہیں۔

حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:ثَلَاثٌ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہِ تَعَالٰی لِاَحَدٍ فِیْھِنَّ رُخْصَةٍ: اَدَاءُ الْاَمَانَةِ اِلٰی البِرَ وَالْفَاجِرِ و۔الْوَفَاءُ بِالْعَھْدِ اِلٰی البِْرِّ وَالْفَاجِرِ وَبِرُّ الْوَالِدَیْنِ بِرَّین کاِنَا اَوْفَاجِرَیْنِ (اصول کافی)۔"تین چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ (اول) امانت کی واپسی، اگر چہ مالک مومن ہو یا کافر (دوم) ایفائے عہد کرنا، معاہدہ کرنے والا خواہ مومن ہو یا کافر (سوم) والدین سے نیکی کرنا، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر ۔

حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے مامون کے نام ایک خط لکھا جس میں شریعت اسلامیہ کا ذکر تھا اور اس ضمن میں یہ مضمون بھی تحریر تھا:وَبِرُّالْوَالِدَیْنِ وَاجِبٌ وَاِنْ کَانا مُشْرِکَیْنِ وَلاطَاعَةَ لھُمَّا فِیْ مَعْصِیةِ الخالِق (عیون الاخبار الرضا)۔"والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے اگر چہ دونوں مشرک ہی ہوں۔ البتہ والدین کی اطاعت واجب نہیں جبکہ خالق کی نافرمانی کا سبب بنے۔"

زکریا بن ابراہیم کو صادق آل محمد کی نصیحت

ابراہیم کا بیٹا زکریا نصرانی تھا، بعد میں مسلمان ہو گیا اور حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی زیارت سے مشرف ہوا تو اس نے عرض کی کہ میری ماں نصرانی و نابینا ہے، وہ بڑھاپے کی حالت میں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، ماں کی خدمت کرو اور اچھے طریقے سے پیش آؤ۔مرنے پر اس کا جنازہ دوسروں کے حوالے نہ کرنا، بذات خود تجہیز و تکفین کا کام انجام دینا۔ اس جملے میں بعد ہونے والی دو پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا، ایک اس کی ماں کی وفات اور دوسرا اس کا مسلمان ہونا۔

زکریا جب واپس کوفہ پہنچا تو والدہ کے ساتھ بہت ہی ہمدردی و مہر بانی سے پیش آنے لگا۔ یہاں تک کہ نوالے اس کے منہ میں رکھتا، کپڑے تبدیل کرتا، نہلاتا و دھلاتا تھا۔ مختصر یہ کہ ہر ممکن خدمات انجام دیتا رہا۔

ماں نے پوچھا، بیٹا، جس وقت تم نصرانی تھے اس قدر میری خدمت نہیں کرتے تھے۔ اب کیا وجہ ہے کہ دن رات میری خدمت کرتے ہو؟
زکریا نے جواب دیا : اے میری ماں، میرا ایک مولا ہے، وہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا فرزند ہے۔ اس نے مجھے اس طرح تیری خدمت انجام دینے کی نصیحت کی ہے۔

ماں نے پوچھا، کیا وہ پیغمبر ہے؟

زکریا نے کہا، نہیں۔ بلکہ وہ فرزند پیغمبر ہے۔

ماں نے کہا، اے بیٹا، ایسا شخص پیغمبر ہونا چاہیئے۔ کیونکہ ایسی نصیحتیں اور احکامات انبیاء کرام (علیہم السلام) ہی دیتے ہیں۔

زکریا نے کہا، پیغمبر اسلام حضرت محمد بن عبد اللہ پر سلسلہٴ نبوت ختم ہو چکا ہے۔ وہ خاتم الانبیاء ہیں۔ لیکن مجھے نصیحت کرنے والے فرزند رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہیں۔
اس کی ماں بے ساختہ کہہ اٹھی کہ اے بیٹا، یہ دین اسلام تمام ادیان سے بہتر ہے۔ جسے تو اپنایا ہے۔ وہ مجھے بھی تعلیم دے تاکہ میں بھی مسلمان ہو جاؤں۔

پس زکریا نے اسے شہادتین اور تمام عقائد حقہ کی تعلیم دی۔ اس کے بعد اس عورت نے نماز ظہرین و مغربین ادا کی۔ اسی شب اس پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگے تو اپنے بیٹے سے کہنے لگی، بیٹا، جو کچھ تم نے مجھے تعلیمات دی تھیں، ان کی دوبارہ تکرار کرو۔ زکریا نے تکرار شروع کی، وہ عورت سنتی رہی اور اسی حالت میں رحلت کر گئی۔

والد ین سے زند گی اور موت کے بعد نیکی کرنا
والدین کی نافرمانی کرنا حرام اور ان کے ساتھ نیکی کرنا واجب ہے، چاہے وہ زندہ ہو ں یا مر گئے ہوں۔ بعبارت دیگر ، ان کی موت کے بعد بھی اولاد کے ذمے ان کے حقوق باقی رہتے ہیں۔
اگر والدین کی موت کے بعد اولاد ان کو فراموش کردے، ان کے لیے کارِ خیر بجا نہ لائے تو اس صورت میں اولاد عاقِ والدین شمار ہوگی۔ اگرچہ ان کی زندگی میں حقوق ادا بھی کیے ہوں اور مرتے وقت تک ان کی خدمت سرانجام دی ہو۔

مرنے کے بعد والدین کے حقوق

اول۔  ایسے واجبات کا ادا کرنا جو انہوں نے اپنی حیات میں انجام نہ دیئے ہوں۔ مثلاً نماز، روزہ، حج اور قرضے وغیرہ۔

دوم۔ ان کی وصیت پر عمل کرنا۔

سوم ۔  ان کی مغفرت و بخشش کے لیے مختلف اعمال بجالانا چاہیئے۔ ان کی طرف سے صدقہ دینا، کارِ خیر انجام دینا، مستحب اعمال بجا لانا، مختصر یہ کہ جتنا ممکن ہو مادّی و معنوی تحائف اور ہدیے ان کو بھیجنے چاہیئیں۔

والدین کے عقوق ان کی وفات کے بعد

حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے:اِنَّ الْعَبْدَ لیَکُوْنُ بَارّاً لِوَالِدَیْہِ فِی حَیوٰتِھِمَا ثُمَّ یُموْتَانِ فَلَا یَقٓضِیْ عَنْھُمَا دَیْنُھمَا وَلَا یَسْتَغفِرُلَھُمَا فَیَکْتُبُہُ اللّٰہُ عَاقاً۔ وَاِنَّہُ لَیْکُوْنُ عَاقاً لَّھُمَا فِیْ حَیٰوتِھِمَا وَغَیْرُ بَارٍّم بھُمَا فَاِذا مَاتَا قَضیٰ دَیْنَھُمَا وَاسْتَغْفَرَ لَھُمَا فَیْکُتبُہُ اللّٰہُ بارّاً۔ (اصول کافی)۔

"بے شک اگر ایک بندہ والدین کی زندگی میں تو نیک رہے اور جب وہ دونوں مر جائیں تو وہ اُنہیں بھول جائے، ان کے قرض ادا نہ کرے، اور نہ ہی ان کے لیے مغفرت و رحمت طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہٴ اعمال میں عاق والدین لکھے گا۔ اور دوسرا بندہ ماں باپ کی زندگی میں تو عاق رہے مگر ان کی موت کے بعد ان کے قرضے ادا کرے اور ان کے لیے مغفرت و بخشش طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کا نام والدین کے ساتھ نیکی کرنے والوں کی فہرست میں لکھے گا۔"

عمل ایک ، ثواب متعدد

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز کی مشکل درپیش ہے کہ والدین کی حیات و موت میں ان کی خدمت نہیں کرتے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) پہلے والدین کے مرنے کے بعد نیکی کرنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ان کی نماز پڑھو(یعنی ان کی قضا نمازیں خود یا اُجرت دے کر پڑھوائیں، اگر ان کے ذمے قضا نماز نہ ہو تو نوافل خود پڑھے یا اُجرت دے کے پڑھوائے)، ان کی طرف سے صدقہ دو، ان کے قضا روزے رکھو اور حج ادا کرو۔ تم جو کچھ عمل بجا لاؤ گے اس کا ثواب دونوں کو ملے گا۔اس کے علاوہ والدین کے حق میں نیکی کرنے کا صلہ دو گنا عطا ہو گا۔ ایک اصل عمل بجا لانے کے سلسلے میں ، دوسرا والدین کے حق میں نیکی کرنے کے صلے میں۔

والدین کے لیے دعا و استغفار

حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے دریافت کیا کہ کیا والدین کے مرنے کے بعد بھی میرے ذمے ان کے کچھ حقوق باقی رہتے ہیں؟:قَالَ نَعَمْ، الصَّلوٰةُ عَلَیْھِمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَھُمَا وَاِکْرَامُ صَدِیْقِھِمَا وَصِلَةُ رَحِمِھُمَا (کافی)۔"فرمایا، ہاں۔ ان کے لیے نماز پڑھو اور استغفار کرو اور ان کے دوستوں کا احترام کرو، ان کے رشتہ داروں سے حسن سلوک رکھو۔"

اطاعت والدین واجب ہونے کے مواقع

والدین کے امر و نہی واجبات عینی اور محرماتِ الٰہی کے مقابل کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ مثلاً والدین اگر اولاد کو شراب پینے کا حکم دیں یا اُس کو واجب نماز روزے سے روکیں تو ایسی صورت میں والدین کی اطاعت ممنوع ہے۔ چنانچہ سورہٴ لقمان کی پندرھویں آیت میں اس کی تصریح فرمائی ہے:وَاِنْ جَاھَدَکَ عَلٰے اَنْ یُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہ عِلْمٌ فَلَا تُعِطھُمَا۔

"اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اس بات پر مجبور کریں کہ تم میرا شریک کسی ایسی چیز کو قرار دو جس کا تمہیں کچھ علم نہیں، تو تم ان کی اطاعت نہ کرنا۔"یہ حدیث شریف اس آیت کریمہ کی تائید کرتی ہے:لَاطَاعَةَ لِمَخلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَةِ الْخَالِقِ (بحارالانوار)۔"مخلوق کی اطاعت جائز نہیں جبکہ اس میں خالق کی نافرمانی ہو۔"

ان دو صورتوں کے علاوہ تمام مستحبات و مکروہات اور مباحات بلکہ وجوب کفائی انجام دینے کی صورت میں والدین کی رضایت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اگر یہ عمل والدین کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا تکلیف کا موجب ہوں تو ان کی مخالفت کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ اس اسی مخالفت کو عاق کہتے ہیں۔ مثلاً بیٹا غیر واجب سفرپر جانا چاہتا ہو لیکن والدین جانی و مالی ضرر کے اندیشے سے یا اس کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر جدائی کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اسے سفر پر جانے سے منع کریں اور بیٹا منع کرنے کے باوجود سفر پر جائے تو اس صورت میں معصیت کا سفر ہوگا اور حرام ہوگا۔ ایسے سفر میں نماز و روزہ قضا نہیں ہو گا۔

مختصر یہ کہ ہر وہ مخالفت جو والدین کی ناراضگی ، رنجش اور اذیت کا سبب بن جائے، حرام ہے۔مگر یہ کہ ان کی اطاعت اولاد کے لیے ناقابل برداشت ہو یا دینی و دنیوی ضرر کا موجب ہو۔ مثلاً والدین اولاد کو شادی کرنے سے منع کریں، جبکہ شادی کے بغیر زندگی گزارنا دشوار ہو یا عسر و حرج در پیش ہوتا ہو یا یہ کہ والدین بیٹے سے کہیں کہ بیوی کو طلاق دے دو جبکہ یہ حکم دونوں میاں بیوی کے لیے نقصان کا باعث ہو۔ ایسی صورت میں والدین کی اطاعت واجب نہیں لیکن ایسے امور جن میں والدین مخالفت کے باوجود ناراض نہ ہوتے ہوں اور ان کو کوئی تکلیف بھی نہ پہنچتی ہو، ایسے موقعوں پر مخالفت کا حرام ہونا یا اطاعت کا واجب ہونا میرے علم میں نہیں ہے۔بہتر ہے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ تا حد امکان ان اوامر کو بجا لائیں اور مخالفت سے پرہیز کریں۔ خصوصاً جبکہ والدین اولاد کی مصلحت ملحوظ خاطر رکھ کر امر و نہی کریں اور اس میں ان کی ذاتی غرض نہ ہو۔

والدین کے امرو نہی میں تضاد

جب کبھی والدین کے احکام میں تضاد واقع ہو جائے مثلاً باپ کہے کہ فلاں کام کرو، ماں کہے کہ وہ کام نہ کرو تو ایسی صورت میں کوشش کی جائے کہ دونوں کو راضی رکھا جا سکے اور اگر کوئی دونوں کو راضی نہ کر سکے تو ماں کی خوشنودی کو ترجیح دے۔ چونکہ ابتدائے خلقت میں باپ سے پہلے ماں کے حقوق انسان پر عائد ہوتے ہیں کیونکہ ماں زیادہ تکالیف سہتی ہے خصوصاً ایّامِ حمل، وضعِ حمل اور دودھ پلانے کی زحمات ماں ہی برداشت کرتی ہے۔ ماں اس لیے بھی زیادہ نیکی کا استحقاق رکھتی ہے کہ عورت پیدائشی طور پر مرد کی نسبت نازک مزاج ہوئی ہے۔ وہ اولاد کی معمولی سی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ جاتی ہے، بیتاب ہو جاتی ہے مامتا اُسے بے قابو کر دیتی ہے۔اس کے برعکس باپ کی عقل و ہوش مضبوط اور مزاج سنجیدہ ہوتا ہے وہ اولاد کی تکلیف سے کم متاثر ہوتا ہے۔ باپ احساس کر لیتا ہے کہ بیٹا میری مخالفت ذاتی دشمنی کی بنا پر نہیں بلکہ ماں کی خاطر داری کی بنا پر کر رہا ہے۔ اس لیے وہ مخالفت سے ناراض نہیں ہوتا۔

والدین کی اجازت لازم ہے

شر ع مقدس ا سلام میں یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ کچھ امور میں اولاد ماں باپ دونوں سے یا کسی ایک سے اجازت حاصل کرے۔ جیسے وجوبِ کفائی مثلاًجہاد یا مستحبات مثلاً مستحبّی روزہ یا بعض عقود مثلاً عہد، قسم اور نذر بجا لانے میں ان سے اجازت لینا چاہیئے۔ شہیدِ اول نے کتاب قواعد میں حقوق والدین بیان فرماتے ہوئے دن عنوانات ترتیب دیئے ہیں۔اختتام انہیں عناوین پر زیادہ مناسب سمجھتا ہوں۔

اولاد کے سفر کے متعلق قول شہید

۱۔مباح اور مستحب سفر والدین کے اذن کے بغیر حرام ہے لیکن تجارت کا سفر جس سے فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو یا تحصیلِ علم کے لیے سفر کرنا، جبکہ جس جگہ والدین رہتے ہیں، ممکن نہ ہو ، ایسی صورت میں بعض فقہاء سفر جائز سمجھتے ہیں۔

۲۔ بعض فقہاء قائل ہیں کہ بیٹے پر ہر جگہ اور ہر حالت میں والدین کی اطاعت واجب ہے اگر چہ اس میں شک و شبہ بھی ہو۔ پس اگر والدین حکم کریں کہ ہمارے ساتھ غذا تناول کرو اور بیٹا غذا میں شبہ کی نظر رکھتا ہو ، پھر بھی واجب ہے کہ اطاعت بجا لائے اور ان کے ساتھ کھانا کھائے۔ کیونکہ والدین کی اطاعت بجا لانا واجب ہے اور شبہات چھوڑنا مستحب ہے۔

۳۔ جبکہ نماز کا وقت داخل ہو اور والدین کسی کام کی انجام دہی کے لیے حکم دیں تو اطاعتِ والدین کو مقدم سمجھیں چونکہ اوّل وقت میں نماز پڑھنا مستحب ہے اور اطاعتِ والدین واجب ہے۔

(جو سفر ماں باپ کی تکلیف کا باعث ہو، حرام ہے اور انسان کو اس سفر میں نماز پوری پڑھنا پڑے گی اور روزہ بھی رکھنا ہو گا۔ اگر اولاد ماں باپ کے روکنے کے باوجود سفر کرے جبکہ وہ سفر ان پر واجب ہو ۔ البتہ حج واجب کا سفر ہے تو نماز قصر پڑھے۔ دیکھو توضیح المسائل امام خمینی مسئلہ ۱۲۹۲․۱۲۹۱، الخوئی مسئلہ ۱۳۰۵․۱۳۰۴ ۔مترجم)

نماز جماعت سے منع کرنا


۴۔اقرب یہ ہے کہ والدین اپنے فرزند کو نماز ِباجماعت میں شرکت سے منع نہیں کرسکتے۔ مگر جبکہ بیٹے کی جماعت میں شرکت ان کے لیے تکلیف کا باعث بن جائے۔ مثلاً بیٹا نمازِ عشاء یا نمازِ فجر جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد جائے تو والدین کو خوف محسوس ہوتا ہو اپنے جان و مال کا یاپھر خود اولاد کی جان کا۔

۵۔ اس صورت میں جبکہ جہاد کے لیے سفر کرنا فرزند پر واجب ِ عینی نہ ہو تو والدین اس سفر سے منع کر سکتے ہیں۔

۶۔ واجباتِ کفائی میں والدین اولاد کو صرف اُسی صورت میں روک سکتے ہیں جبکہ دوسرے افراد کے ذریعے اسے انجام دینے کا گمان یا یقین حاصل ہو جائے۔ اس صورت میں والدین تمام واجباتِ کفائی سے بیٹے یا بیٹی کو روک سکتے ہیں۔

۷۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اگر مستحبّی نماز میں مشغول ہو اور والدین اس کو بلائیں تو وہ نماز توڑ سکتا ہے۔

۸۔ باپ کے اذن نہ دینے کی صورت میں مستحبّی روزہ ترک کر دینا چاہیئے۔

۹۔ قسم اور عہد کے عقود کے بارے میں اگر والدین اجازت نہ دیں تو پھر ترک کر دینا چاہیئے۔

۱۰۔ اولاد پر واجب ہے کہ والدین کو کسی قسم کی تکلیف نہ دے یا کوئی دوسرا تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو اپنے امکان و قوت کے مطابق ان کا دفاع کرنا چاہیئے۔

احترام والدین

والدین کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ نہایت ادب و احترام سے پیش آنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اہل بیت اطہار (علیہم السلام) سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ مثلاً

۱۔ والدین کو پکارنے کی صورت میں ان کا نام نہیں لینا چاہیئے بلکہ لقب یا کنیت وغیرہ سے یاد کرنا چاہیئے۔

۲۔ راستہ چلتے ہوئے والدین سے آگے نہ بڑھیں اور ان سے پہلے نہ بیٹھیں۔

۳۔ والدین سے قبل دستر خوان پر ہاتھ آگے نہ بڑھائیں۔

حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) اپنی والدہٴ گرامی کے ساتھ احتراماً کھانا تناول نہیں کرتے تھے۔ آپ (علیہ السلام) فرماتے تھے کہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں کسی نوالہ کو والدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں ہاتھ بڑھا دوں۔ اگر میں نے ایسا کیا تو گویا ان کا ادب و احترام نہ کیا۔

۴۔کسی مجلس میں والدین سے منہ پھیر کر نہ بیٹھیں۔

۵۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کریں۔

۶۔ ایسے کام نہ کریں جس سے لوگ والدین کو ملامت کریں اور ان کولعن طعن کرنے کا سبب بنیں۔ یعنی کسی کے والدین کو بُرا بھلا نہ کہیں ، نتیجتاً وہ اس کے والدین کو نازیبا کلمات کہیں گے۔


۷۔حضرت سجاد (علیہ السلام) نے راستے میں ایک لڑکے کو دیکھا جو اپنے والد کے ہاتھوں کے سہارے راستہ چل رہا تھا۔چنانچہ آپ اس لڑکے سے ناراض ہوئے اور آخر عمر تک اس سے بات چیت نہ کی۔(کافی)۔

واضح رہے کہ والدین کے حق میں نیکی کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے، فقہاء کے درمیان مسلمہ احسان وہ ہے جس سے والدین کی دل آزاری نہ ہوتی ہو۔ مثلاً ان کے مقررہ مصارف معیّن وقت میں ادا نہ کرنا اور مطالبہ پر مجبور کرنے کے بعد دینا،کسی تقریب میں مدعوئین کے ساتھ ان کو بھی باقاعدہ دعوت نہ دینا،کسی سفر سے واپسی پر ان کے لیے دوسروں کے ساتھ تحفہ تحائف نہ دینا۔اس قسم کے احسانات کا ترک کرنا حرام ہے۔ البتہ ایسے امور جن سے والدین کی ناراضگی نہ ہوتی ہو، ان کی حرمت معلوم نہیں۔البتہ آداب و احترام کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے، علمائے عظام کے درمیان مسلم آداب و احترام وہی نہیں ہیں جس کے ترک کرنے کی صورت میں والدین کے دل میں رنجش پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً اہانت و تحقیر کی نیت سے والدین سے منہ پھیرنا یا پیٹھ موڑ کر بیٹھنا،ان کی آواز سے اونچی آواز میں گفتگو کرنا، راستہ چلتے ہوئے ان سے آگے نکل جانا، یہ سب حرام ہیں۔لیکن توہین و تحقیر کے بغیر بعض اوقات احترام و آداب کو ترک کرنا جس سے والدین ناراض نہ ہوتے ہوں، اس قسم کے بے احترامی کی حرمت معلوم نہیں ، پھر بھی اس قسم کے احترامات مستحبات میں شمار کیے گئے ہیں۔

اولاد کے حقوق جو کہ والدین پر واجب ہیں

جس طرح والدین کا ادب و احترام بجا لانا اورا ن کے ساتھ احسان کرنا اولاد پر واجب ہے، اسی طرح والدین کے ذمے بھی اولاد کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں۔ ان حقوق کی رعایت کرنا ماں باپ پر واجب ہے۔اگر خیال نہ کریں تو گویا صلہٴ رحم منقطع کیا کیونکہ انسان کے لیے ماں باپ کے بعد قریب ترین ارحام اولاد ہیں جبکہ قطعِ رحم بہت بڑا گناہ ہے، جو کہ بعد میں ذکر ہو گا۔

چنانچہ جیسا کہ اولاد والدین کے حقوق کی مراعات نہ کرنے پر عقوق جیسے گناہ سے دوچار ہوتی ہے، اسی طرح والدین بھی اولاد کے حقوق ادا نہ کرنے پر عاق جیسی مشکلات و مسائل سے رو برو ہوتے ہیں۔

والدین اولاد کو کسی ناقابل برداشت کام کرنے کو مامور نہ کریں۔ بصورت ِ دیگر اولاد اس بارِگراں سے بچنے کے لیے بہانے تلاش کرے گی ، جس کے نتیجے میں وہ عاق ہو سکتی ہے۔اولاد کے کردار و گفتار پر تادیبی و تعمیری تنقیدکی بجائے اگر ان پر بار بار اعتراض کیے جائیں اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہیں تو یہ عمل رفتہ رفتہ والدین کے ادب و احترام کے ترک پر منتج ہو گا اور اس سے ایک دوسرے کے درمیان نفرت بھی پیدا ہو سکتی ہے اور آخر میں عاق کی نوبت پہنچ سکتی ہے۔
اسی طرح اولاد کے ساتھ محبت ترک کرنے سے ردعمل کے طور پر اولاد بھی ماں باپ سے پیار و محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس سے دونوں گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی لیے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ارشاد فرمایا:یَلْزِمُ الْوَالِدَیْنَ مِنَ الْعُقُوْقِ مَایَلْزِمُ الْوَالَدُ مِنْ عُقُوْقِھِمَا"والدین کا عاق ہونا لازم آتا ہے جس طرح اولاد والدین کے حقوق ادا نہ کرنے پر عقوق میں مبتلا ہوتی ہے۔

بنا بر ایں والدین کا فریضہ ہے کہ اپنی اولاد کو ادب و احترام سے تعلیم و ترغیب دیں اور ان کی تربیت کے وسائل فراہم کریں۔ نیز ان کو شفقت و مہربانی سے قابو میں رکھیں اور عاق ہونے کے اسباب سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔مثلاً معمولی خطا و لغزش سے تجاہل عارفانہ کے طور پر چشم پوشی کیا کریں۔ ان کے ناچیز احسان اور معمولی اطاعت کو قبول کر کے شکریہ ادا کریں۔ ان کے سامنے نیک خواہشات کا اظہار کرنے ہوئے دعائیں دیں۔
علماء عظام نے فقہی کتابوں میں ماں باپ پر اولاد کے حقوق کے بارے میں تفصیل سے مسائل بیان کیے ہیں۔ ان کا خلاصہ اس طرح یہاں ذکر کریں گے کہ ہم اپنے موضوع سے ہٹ نہ سکیں۔

نفقہ باپ پر واجب ہے

اولاد کی پیدائش سے لے کے رُشد(عقل و ہوش سنبھالنے اور نفع نقصان کی تمیز کرنے) تک نیز برسرِ روزگار ہونے سے خودکفیل ہونے تک خوراک و لباس اور رہائش وغیرہ کا انتظام باپ پر واجب ہے۔اولاد کے بھی شوہر کے گھر پہنچنے یا خود کفیل ہونے تک اخراجات باپ کے ذمے ہیں۔

اولاد کی شادی کے لیے کوشش کرنا

والد پر عائد ہونے والے حقوق میں سے ایک اہم حق یہ ہے کہ جب لڑکا بالغ و رشید ہو جائے تو اس کی شادی کی کوشش کی جائے۔ اگر لڑکی ہو تو اسے شوہر کے گھر پہنچائے۔ والدین لڑکی کو خاوند اختیار کرنے سے روک نہیں سکتے۔ چنانچہ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہوتا ہے:فَلَا تَعْضُلُوْ ھُنَّ اَنْ تَنکحِنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَّرَاضَوبِیْنَھُمْ بِالْمَعْرْوُفِ(سو

/ 1 نظر / 5 بازدید
سوالات استخدامی

سلام دوست عزيز وبلاگ جالبي داري خيلي خوشم اومد. يه پيشنهاد داشتم : اگه ميشه لطفا منو با نام منابع استخدامي لينک کنيد وبگيد با چه اسمي لينکتان کنم يا اينکه در بالاي سايت قسمت تبادل لينک ,لینک خودتون رو ثبت کنید منتظرم www.dl-pa.ir