سرزمین سرخ کی داستان

سرزمین سرخ کی داستان

تاریخچہ

 آج سے پانچ سوسال پہلے ١۴۶٩ء میں ایک بلوچ سردار سہراب خان کے بیٹے اسماعیل خان نے بڑے پیار اور ارمانوں کے ساتھ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اپنے نام کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان کی بنیاد ڈالی  ۔ یہ شہر نہ صرف اپنے پر امنی اور خوشحالی میں اپنی مثال آپ تھا بلکہ اپنی ہریالی، سرسبزی اورپھولوں کی فراوانی کے سبب '' پھلاں دا سہرا'' کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ تہذیب وتمدن سے ناآشنااور سماجی بندھنوں سے بے بہرہ لوگوں کے درمیان اس کی منفرد کشش اورامن پسندی کا چرچا دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ نسل در نسل چلتی دشمنیوں کا ستایا کوئی خاندان ،اگر امن کا چراغ جلائے شورش زدہ اور تاریک علاقوں سے ہجرت کرکے اس کی چھائوں میں آتاتو سمندر جیسے دل رکھنے والے اس کے سانولے سلونے ، امن پسند باسی آگے بڑھ کران کا خیر مقدم کرتے اور پھر جلدہی وہ مہذب ومتمدن ہوکر راہی سفر ہوتے۔ ایک طرف ہنرمند مسلمان اس کے سینے سے سونا اگلتے تو دوسری طرف پڑھی لکھی ہندو آبادی تعلیم، روزگار،صحت اور دیگر فلاحی سہولیات کی فراہمی کو اپنا فرض عین سمجھتے تھے۔ اس سرزمین نے تہذیب وتمدن سے عاری خانہ بدوش، سفاک تاتاریوں اور درانیوں کے لائو لشکر دیکھے۔ افغانی لٹیروں کی گذرگاہ بنا۔ سکھوں نے اس کے حسن کو لوٹا۔ سندھ کی بے رحم موجوں نے کئی دفعہ اس صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا یہاں تک کہ ١٩٠١ء کا دور شروع ہوا اور گورے فرنگیوں نیاپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر اسے ایک غیر فطری تقسیم کی بھینٹ چڑھادیا اور اس کے غیور باسیوں کی اس ظلم وستم اورناانصافی کے خلاف آوازکو باوجود جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے زبردستی دبا دیا گیا اوراسے صوبہ ملتان (سرائیکی وسیب )سے جدا کرکے تخت پشور کا قیدی بنادیا۔ سرحد میں ضم ہوتے ہی لوگوں کے لئے انصاف ناپید ہوتا گیااور اسی ناانصافی کے باعث انتشار نے جنم لیااورظلم وستم اور محرومیوں کا سلسلہ طویل ہوتا گیا ۔ابھی ظلم کی یہ داستانیں ختم نہیں ہوئی تھیں کہ ایک منظم سازش کے تحت اس کے باسیوں کے درمیان عقیدے اور نظریے کی دراڑ ڈال دی گئی اور ہند ومسلم فسادات کروائے گے  تاہم مسلمان کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی چپقلش نہیں ہوئی اور سنی وشیعہ کانام موجود نہیں تھا بلکہ مسلمان ''مسلمان ''کے نام سے ہی معروف تھا۔

ظالم حکمران کی بنائی سپاہ

  ١٩۴٧ء میں پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں کے یہ دوبڑے فرقے شیعہ اورسنی ہمیشہ کی طرح بڑے پیارومحبت کے ساتھ رہنے لگے ۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی بے مثال رواداری ، مذہبی تہواروں میں بلا تفریق شرکت ، آپس میںشادی بیاہ و۔۔۔ ہمیشہ کی طرح جاری تھا کہ اچانک ایک تیسری قوم اپنا بناوٹی مذہب لیکر مسلمانوں کے اندر داخل ہوئی اور ان کے درمیان پیار ومحبت کی ضخیم دیوار میں شگاف کرنے شروع کیے ۔ ١٩٧٩ء میں امام خمینی  کی قیادت میں انقلاب اسلامی کی کامیابی  ۔اور پھر ١٩٨٠ ء میں مفتی جعفر حسین  کی قیادت میں ضیاء الباطل پر پاکستانی شیعیوں کی تاریخی فتح نے اسلام دشمنوں کا چونکادیااورشیعہ وسنی مسلمانوںکے درمیان انتشار واختلاف پھیلانے اور شیعیوں کو سرکوب کرنے کے لیے وقت کے حکمران ، ضیاء الباطل نے ایک دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ (کہ جو درواقع سپاہ یزیدہے )کی بنیاد ڈالی۔ صوبہ سرحد کے اس جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں١٩٨۴یا ١٩٨۶میںعاشور کے جلوس کو کمشنری بازار میں روک کر اس تنظیم کے ذریعے شیعہ مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اور پھر آہستہ آہستہ شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٣٠ ستمبر ١٩٨٨ء کو دوسال سے رکے جلوس کو اپنے ساٹھ سالہ روٹ پردوبار چلانے کا فیصلہ کیاگیا۔اور پاکستان بھر سے مومنین ڈیرہ اسماعیل خان میں جمع ہونے لگے۔ انتظامیہ نے کہ جن میں اس دہشت گرد تنظیم کے حامی افراد بھی موجود تھے ، ظالم حکمران کی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے لکیر کھنچی کہ جس نے بھی اس لکیر سے آگے قدم  بڑھا یا اسے گولی مار دی جائے گی ۔ لیکن غازی کا علم بلند کرنیوالوں نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی دس جانوں کی شہادت اور ۴٠ زخمیوںکا نذرانہ پیش کرکے شیعہ جلوسوں کو امام باگاہوں تک محدود کرنے کی اس سازش کو ہمیشہ کیلئے ناکام بنادیا۔اور ٣ اکتوبر ١٩٨٨ء کو یہ جلوس اپنی منزل تک پہنچ گیا۔                                                 

 جرم محبت محمد وال محمد  ۖکی سزا

اس عظیم حماسہ کے بعد دشمن اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے خاموش ہو گیا۔ لیکن ١٩٩۴ء کو مدرسہ جامعة النجف کوٹلی امام حسین ـکے فاضل وپرہیزگارمدرس ،حجة الاسلام مولانا اللہ نواز مرتضوی کہ جو اپنے گائوں حاجی مورا کی طرف نماز جمعہ پڑھانے جارہے تھے۔بزدلانہ گھات لگاکر شہید کردیا۔١٩٩۶ء میں ڈیرہ کے مضافات میں واقع گائوں سردارے والا کے مونین کے ۶ محرم الحرام کوماتمی جلو س کی شکل میں گر ہ رحمان کی طرف جارہے تھے کہ یزیدی گروہ کے افراد نے فائرنگ کرکے۵ مومنین کو شہید اور دسیوں کو زخمی کردیا۔ایک سال بعد حاجی مورا میں دومومنین اور فتح کے گائوں میں۴مومنین کو شہید کردیاگیا۔

٢٨ستمبر١٩٩٨ء کوتحریک جعفریہ  کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ خورشید انور کو اپنی بیٹی ام لیلیٰ اورڈرائیور۔جوکہ کاٹھگڑھ کے سید تھے ۔سمیت شہید کردیاگیا۔ اسی سال معروف سرجن ڈاکٹر علی بنگش کو اسپتال میں گولیوں سے چھلنی کرتے ہوئے شہید کیا گیا ۔مومنین کے سروں پر ظلم وبربریت کا یہ طوفان ایسا چلا کہ تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ نہ کوئی پرسان حال اور نہ ہی کوئی مددگار ، انتظامیہ نہ صرف یہ کہ ستمکاروں کو گرفتار نہ کرتی بلکہ مونین کو تنگ کیا جاتااور ان کے ساتھ جیلوں کو بھراجاتا، ان کے خانوادوں کو تنگ کیا جاتا۔٢٠٠٧ کے اواخرتک فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات میں سینکڑوں مومنین نے جام شہادت نوش کیا ،جن میں زندگی کے ہر طبقہ کے افراد موجود تھے تاجر ، ٹیچر، انسپکٹر ، پروفیسر، ادیب ،صحافی ،سماجی شخصیات ،وکلاء ،ڈاکٹرز، مزدور، بچے ، بوڑھے ،خواتین کو ظلم کا نشانہ بنایاگیا۔ڈاکٹر غلام شبیر جوکہ حاجی مورہ میں رہائش پذیر تھے،  انسپکٹر سید عفیف ، پٹواری غلام قنبر،  sspسیدرجب علی شاہ،صحافی مقبول احمد سیال ،پروفیسر نزاکت علی عمرانی ،لیاقت علی عمرانی  سماجی شخصیت ، جواد حسین جواد تحریک نفاذفقہ جفریہ کے راہنما، محکمہ تعلیم کے اعلی افسر سید عارف حسین ،کوٹلہ سیداں کے کاظمی خاندان کے سادات میں سے آٹھ افراد، ریٹائرڈتحصیلدار سید بشیرحسین ، ان کے بیٹے معروف سماجی شخصیت سید شوکت علی کاظمی ، منور حسین و۔۔۔ا وراس کے علا وہ کئی مونین کو شہید کیا گیا کہ جن کے ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے اور جن کا جرم ''محبت محمد وآل محمد ۖ ''تھا                                       

شب ظلمت

٢٠٠٧ کے اواخر میں سپاہ یزیدکے علاوہ خارجی ٹولے طالبان نے بھی مومنین کیخلاف محاذ کھول دیا۔وہ طالبان جو کہ نہ صرف تمام مسلمانوں کے دشمن ہیں بلکہ پاکستان کو بھی نابود کرنے کی سعی لا حاصل میں ہیں اور ڈیرہ میں خودکش حملوں اور بم بلاسٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ پاکستان میں سب سے پہلا خودکش حملہ ٢٠٠٣ ء میں کوئٹہ میں مومنین کے ایک جلوس میں کیا گیا۔ اس کے بعد لال مسجد پر سابق صدرپرویزمشرف کی طرف سے آپریشن کے بعد ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیااور پورے پاکستان خصوصاً صوبہ سرحد کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پرخودکش حملوں کے ساتھ ساتھ شیعہ مومنین کو محبت اہل بیت کے جرم کی سزا دی جانے لگی ۔مساجد، امام بارگاہوں ، اور بازاروں وہسپتالوں میں مومنین کو نشانہ بنایا گیا۔ ١۶جون ٢٠٠٨کو محلہ روشن چراغ میں مسجد امام علی  ـ میں بم دھماکہ کیا گیا جس میں ۵مومنین شہیداور امام جماعت شدید زخمی ہوئے۔١٨ اگست ٢٠٠٨ء کو باسط علی زیدی کواپنے جنرل سٹور پر فائرنگ کرکے شدید زخمی کیا گیا ۔ جب ان کو اسپتال لایاگیاتوچاہ سید منور کے زیدی سادات ان کی تیمار داری کیلئے جمع ہوئے ۔اسی دوران ایک خودکش خارجی نے ایمر جنسی وارڈمیں اپنے آپ کو دھماکے سے اڑادیا۔ جس کی وجہ جوان سادات کا یہ قافلہ جو باسط علی کو الوداع کہنے آیا تھا ،کارواں کربلا سے پیوست ہوا۔ ٣۵ سے زیادہ مومنین وسادات شہید اور ۴٠ کے قریب زخمی ہوئے۔دس روز بعد کوٹلی امام حسین ـکے ساتھ ایک محلہ میں گیس سلنڈر کے ساتھ بارودباندھ کر محلہ کے شیعہ خاندان کو آگ میں جلانے کی کوشش کی گئی لیکن اسی رات طوفانی بارش ہونے کی وجہ سے یہ خارجی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے تاہم ایک خاتون سمیت تین افراد شہید ہوگئے۔٢٠ نومبر ٢٠٠٨ء کو سید شاہد عباس نقوی کو شہید کیاگیا ۔دوسرے روز٢١ نومبر ٢٠٠٨ء کو اس کے جنازے میں ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے دھماکہ اور ساتھ ہی فائرنگ شروع کردی گئی۔ جس کے نتیجے میں ١١ مومنین شہید اور ٢۵ کے قریب زخمی ہوئے۔١٩ فروری ٢٠٠٩ کو امام بارگاہ محلہ شاہین کے متولی شیرزمان بلوچ کو شہید کیاگیا ۔دوسرے روز شوبراہ ہوٹل کے سامنے ان کے جنازے میں خودکش حملہ کیا گیاجسمیں ۴٠ کے قریب مونین شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔تین چار مرتبہ راکٹوں کے ذریعے امام بارگاہوں اور کوٹلی امام حسین پر حملے کئے گئے۔ ٹارکٹ گلنگ کے واقعات میں کئی مومنین کو شہید کردیا گیا ۔ ڈیرہ امن کمیٹی کے رکن سید منور حسین ، سید حشمت علی ، ملک جاویدباقر جن کو اپنے اہلیہ سمیت قلعہ روڈ ،گلشن کالونی پر فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔ اسی طرح سید غلام عباس شاہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسر۔۔۔اور کئی مومنین کہ جن کو ابھی تک اس ظلم کی چکی میں پیسا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ شیعہ مومنین کے اغوا برائے تاوان کے دسیویں واقعات ، جن میں دشمن فون کرکے واضح بتاتا ہے کہ یہ پیسے لے رہے ہیں اور پھر انہیں آپ مومنین کے خلاف ہی استعمال کیا جائے گا۔

انتظامیہ اور مقامی حکومت کا کردار

 اس تمام عرصہ میں انتظامیہ ، مقامی حکومت اور دیگر قانونی ادارے، سیاسی جماعتیں نہ صرف یہ کہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں بلکہ بعض ادارے اور افراد پس پردہ اور روز روشن کی طرح ان ظالموں کی بھر پور انداز میں سپورٹ کرتے رہے جن کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ان تمام سالوں میںکسی ایک بھی دہشت گرد کا گرفتار نہ کیاگیایا اگر کسی طرح گرفتار ہوابھی تو اس کو کچھ عرصہ کے بعد رہا یا فرار کروادیاگیا۔شہداء کے خانوادوں کو بجائے دلاسے دینے کے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ۔ آئے دن مومنین کے خلاف کریک ڈاون کئے گیے ۔ جب دشمن اپنی تمام تر قوت کے ساتھ بر سر پیکار ہو ۔انتظامیہ کی یہ حالت ہو۔حکومت اور حقوق بشر کی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہوں، تو مظلوم مومنین کے پاس اس کے علاوہ اور کیا چارہ ہے کہ اس سر زمین سرخ سے ہجرت کرجائے ۔ لہذا بعض خانوادے پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔                                                      

انتظار طلوع سحر

یہ تمام ظلم وستم ،مصائب اور محرومیاں، آج سے نہیںبلکہ چودہ سوسال پہلے سے شیعیان اہل بیت کے ساتھ گرہ کھائے ہوئے ہیں ، شیعیان علی  ـ کی تاریخ میں ایسا کوئی ورق نظر نہیں آتا جس میں رنگین سطرین اور آنسوئوں  سے گیلے صفحات موجود نہ ہوں ۔ بنو امیہ ،بنو عباس جیسی بڑی بڑی سلطنتیں،  نجدی  وبعثی حکومتیں اپنی سر وچوٹی کا زور لگاتی رہی کہ علی  ـکے نام لیوائوں کونابود کردیں۔لیکن خود ختم ہوگئیں ،علی  ـکے نام لیوائوں کو ختم نہ کرسکیں۔ڈیرہ اسماعیل خان کے شیعہ جوان ، بوڑھے، بچے اور خواتین کے اندر جہاں شہادت کا جذبہ موجود ہے۔وہاں انہیں شب ظلمت کے بعدطلوع سحر کا بھی یقین ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان میں سے جانے والا ہر شہید جب ان سے وداع کرتا ہے تو دوسروں کو یہ وصیت کرکے جاتاہے:                                                       

'' بھائیو! میدان نہ چھوڑنا۔ یہ وہ راہ ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے اپنے مولا وآقاامام حسین ـ سے سبق حاصل کیا ہے کہ دشمنان اسلام اور منافقوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہونا( ان کے خلاف آواز بلند کرنا)اشد ضروری ہے۔ لہذا یہ میرا ایک شرعی فریضہ ہے کہ مکمل علم ومعرفت اور راسخ عقیدہ کے ساتھ ،میں اس راہ کو اپنے لئے منتخب کروں۔میرے عزیزو!ہمیشہ وحدت کی حفاظت کیجئے گا، کسی بھی لمحے اپنے امام  ـ اکے مقدس راستے سے غافل نہ ہونااور اس کے فرمودات پر عمل کرنا، بارھویں  ـکے ظہور میں تعجیل کی دعائیں مانگنااور ان کے لئے راستہ کو صاف کرنا۔                                                 

   کیا ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہ ہو؟    

٭٭٭٭٭

/ 1 نظر / 7 بازدید
محمد

سلام خوبی به ما هم سر بزن و نظر بده توی مسابقه پیش بینی هم شرکت کن jbums.ir یه جایزه کوچیکم گزاشتیم فعلا