فاطمہ (س)ہر دور کی خواتین کی آئیڈیل

فاطمہ (س)ہر دور کی خواتین کا آئیڈیل

رجب علی مصطفوی

امام خمینی کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ ٹیلی ویژن پر خواتین سے لیا گیا ایک انٹرویو دیکھ رہے تھے کہ جس میں ایک خاتون سے پوچھا گیا کہ تمہاری آئیڈیل شخصیت کون ہے ؟ تو وہ جوا ب دیتی ہے : '' نوشین '' ( چینی فلم نوشین کا مرکزی کردار ) امام جیسے ہی یہ انٹرویو سنتے ہیں ، آرام نہیں کر سکتے اور آدھ گھنٹہ مسلسل بغیر آرام کیے سوچتے رہے ہیں کہ خواتین صدیقہ طاہرہ کے بجائے نوشین جیسی اداکاراؤں کو کیوں اپنا آئیڈیل تصور کرتی ہیں ۔

دوستو ! یہ ایک واقعہ نہیں اپنے اردگرد نگاہ کریں تو کئی ایسی خواتین نظر آئیں گی جن کے آئیڈیل اور اسوہ حسنہ ایسی ہزاروں نوشینیں ہیں ۔

ہمارا میڈیا اور اخبارات بجائے اس کے کہ عالم اسلام کی مایہ ناز خواتین کے کردار سے مسلمانوں کو آشنا کریں، ایسی ہزاروں نوشینوں کو روشناس کرواتے ہیں اور لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کو اپنا آئیدیل قرار دیتے ہیں ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ مسلمان خواتین فلمی ستاروں کو آسانی سے اپنے آئیڈیل کے طور پر قبول کر لیتی ہیں لیکن صدّیقہ طاہرہ جیسی مقدّس ہستیوں کو اپنا آئیڈیل تصور نہیں کرتیں ۔

آیا اس کی وجہ

١۔ اسوہ و آئیدیل کی صحیح شناخت کا نہ ہونا ہے ؟

٢۔ یا یہ کہ چودہ سو سالہ پرانی سیرت عصر حاضر میں کار آمد نہیں ؟

٣۔ یا سیرت نگاروں نے آپ  کی سیرت کو اس طرح سے پیش نہیں کیا کہ لوگ اس کی پیروی کریں ہمارے خیال میں تینوں عناصر اس میں دخیل ہیں کہ جن کی ہم وضاحت کرتے ہیں ۔

آئیڈیل کی شناخت

سیرت سے مراد وہ خاص روش و طریقہ زندگی ہے جس کو انسان اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے اپنے اعمال و افعال ( کاموں ) میں اختیار کرتا ہے جیسے ایک مبلغ لوگوں تک اپنی آواز پہچانے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کرتا ہے اس کو اس کی سیرت کہا جاتا ہے اور کسی کو اپنا آئیدیل قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ جو روش وہ اپنے کاموں میں اختیار کرتا ہے اس روش میں اس کی پیروی کرنا اور اسے اپنے لیے مشعل راہ قرار دینا اور یہ پیروی کے کامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس شخص کی پیروی کی جا رہی ہے اس شخصیت کی مکمل پہچان ہو ۔ اور واضح سی بات ہے کہ ایک معمولی انسان کے لیے نا ممکن ہے کہ وہ تمام انسانوں کی عادات و اطوار ، مزاج و طبیعت وغیرہ کی شناخت کر سکے لہٰذا کسی ایسے منبع اور مأخذ کی طرف رجوع کیا جائے جو انسانوں کی مکمل شناخت حاصل کر پائے اور پھر یہ فیصلہ کرے کہ کس شخص کو اپنا آئیڈیل قرار دو کیونکہ ہر انسان دوسرے انسانوں کے تمام ابعادِ زندگی سے واقف نہیں ہو سکتا اور فقط یہی منبع بتا سکتا ہے کہ آپ کس کو اپنا آئیڈیل بنائیں تاکہ زندگی کے تمام اہداف تک آسانی سے پہنچ سکیں ؟ اور وہ منبع سوائے وحی اور الہام کے اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔

چودہ سو سالہ سیرت قابل پیروی ہے

یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ شخصیت جس کا آج کے دور سے سینکڑوں سال کا فاصلہ ہے اور ہر زمانے کے اپنے معیار اور اپنے تقاضے ہوتے ہیں کیا آج ان کے لیے ان کی سیرت پیروی کے قابل ہے ؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہر انسان کی زندگی کے امور دو قسم کے ہوتے ہیں :

١۔ وہ امور جو قابل تغییر ہیں ( سافٹ وئیر ) جیسے رہنے سہنے کے طور طریقے اور خوراک اور پوشاک کی مختلف شکلیں اور انواع ۔

٢۔ وہ امور جو قابل تغییر نہیں ہیں ( ہارڈ وئیر ) جیسے زندگی کا ہدف اور صداقت ، امانت داری اور عدالت جیسی صفات ۔ سیرت کا تعلق دوسری قسم کے امور سے ہے کہ جو زمان و مکان کے تغیر سے نہیں بدلتے جب ہمارے لیے آئیڈیل کے تصور کی صحیح شناخت ہو گئی اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ چودہ سو سال کیا ہزاروں سال پہلے کی سیرت بھی آج پیروی کے قابل ہے تو یہ دعوی روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ صدیقہ طاہرہ کی سیرت ہر زمانے میں قابل عمل ہے اور زنان عالم کے لیے نمونہ کامل ہے کہ جس کی پہچان قرآن مجید ایک واسطہ سے اس طرح کراتا ہے ۔ و لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة (تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے ) اور آنحضرت  ۖاس طرح فاطمہ   کا تعارف کرواتے ہیں : فاطمة بضعة منّی٢ (فاطمہ  میرا حصہ ہے ۔ '' ھی قلبی و روحی التی بین جنبی٣ ھی نور عینی و ثمرة فؤادی ۴ ( میری آنکھ کا نور اور میرے دل کا میوہ ہے ''انما فاطمة شعبة منی'' ۵ ( فاطمہ میری شاخ و حصہ ہے )۔

حضرت امام کاظم  ارشاد فرماتے ہیں :'' لی برسول اللہ اسوة و بامیر المؤمنین و فاطمة و الحسن و الحسین '' میری آئیڈیل شخصیات رسول خدا ، امیر المومنین فاطمہ ، حسن و حسین  ٪ہیں ۔

امام زمان  ارشاد فرماتے ہیں ۔'' و فی ابنة رسول اللہ لی اسوة حسنة '' ۶ یعنی میرے لیے دختر رسول اللہ  ۖ کی سیرت میں اسوہ ہے ''۔

ایک واقعہ : اگرچہ یہ واقعہ درست ہے لیکن عام قاری کے لیے جب تک امام خمینی کے فرمان کی فکری ، شرعی اور عقلی وجوہات یا دلائل واضح نہ کر دی جائیں یہ بات قابل ہضم نہیں ہے اور اسلام کا خشونت آمیز چہرہ دکھانے کے مترادف ہے لہٰذا یا تو یہ واقعہ نقل نہ کیا جائے یا پھر اس کی صحیح طریقے سے تبیین و تشریح کی جائے ۔

ہفتہ ٨ بہمن ١٣۶٧ ھ ش کا واقعہ ہے ؛ اسلامی جمہوری ایران کے ٹیلی ویژن سے خواتین سے کیا گیا ایک انٹرویو نشر ہوا جس میں ایک خاتون فاطمہ زہرا  کے بارے تقریباً اس طرح کا بیان دیتی ہے : ''فاطمہ  کا تعلق چودہ صدیاں پہلے سے ہے ہم اور آج کی خواتین کو اپنے زمانے کے مطابق زندگی گزارنی چاہئیے ۔ جب امام خمینی نے یہ انٹرویو سنا تو ٹیلی ویژن کے سربراہ کے نام اپنے خط میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ گزشتہ روز ٨ بہمن اسلامی جمہوریہ کے ٹی وی سے خواتین کے آئیڈیل کے بارے ایسا مطلب نشر کیا گیا جس کا بیان کرنا انسان کے لیے باعث شرم ہے جس نے یہ مطلب بیان کیا اس کو اخراج کرنے کے علاوہ تعزیر لگائی جائے اور اس واقعہ کے پشت پردہ شامل تمام افراد بھی تعزیر ہوںگے اگر ثابت ہو کہ اس کا قصد آپ  کی توہین کرنا تھی تو اس توہین کرنے والے شخص کو پھانسی دینی چاہئیے اس طرح کے واقعات تکرار ہونے کی صورت میں ٹی وی کے مسؤلین کو سخت سزا دی جائے البتہ ان تمام مسائل میں عدالت عالیہ کی طرف سے اقدام کیا جائے گا ۔ ٩

مذکورہ بحث سے اچھی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ فاطمہ ایک عالمی آئیڈیل ہے اور جب تک زمانہ باقی ہے ان کی سیرت قابل عمل ہے ۔

صدیقہ طاہرہ کی سیرت

ویسے تو صدیقہ طاہرہ ایک ایسی انسان کامل تھیں کہ جو مقام عبادت میں ، شب زندہ دار مقام عرفانی میں ، عارف کامل ، امامت کے دفاع میں ایک الٰہی سیاستدان ، اولاد کی تربیت میں آگاہ اور زمان شناس ماں ، مقام ہمسری میں شائسہ اور مہربان بیوی تھیں لیکن اختصار کی بنا پر ہم چند پہلوؤں کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

١۔ جناب زہراء بیٹی کی حیثیت سے

صدیقہ طاہرہ  ایک ایسے زمانے میں جہان ہستی پر تشریف لائیں جب کفار مکہ کی طرف سے آپ کے ماں باپ پر سیاسی اور معاشرتی حوالے سے دباؤ تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ رسول خدا  ۖدین اسلام کی تبلیغ کریں ، طرح طرح کے حربوں سے آپ کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے ، جو لوگ دین اسلام قبول کر لیتے ان کے لیے اس فضا میں سانس لینا مشکل ہو جاتا اور کفار ہر قسم کی اذیتیں دینے سے گریز نہیں کرتے تھے ۔

اس دوران ( بچپن ) میں آپ  کو تین مشہور و غم انگیز حادثات کا سامنا کرنا پڑا ۔

الف۔ شعب ابی طالب میں اقتصادی محاصرہ

آپ  نے اپنی زندگی کے تیسرے سال میں قدم رکھا ہی تھا کہ کفار کی جانب سے اقتصادی محاصرہ شروع ہو گیا ، مسلمان اور بنی ہاشم شعب ابی طالب میں محصور کر دئیے گئے ۔ جہاں پر تین سال ایسی حالت میں گزارے کہ بھوک و پیاس سے چہرے خشک اور زرد ہو چکے تھے ۔ کھانے میں کبھی کھجور کا ایک دانہ کبھی آدھا اور کبھی وہ بھی میسر نہ ہوتا تھا ۔ فاطمہ بھی اپنی ماں کے ساتھ ان تمام اذیتوں کو سہہ رہی تھیں اور گویا دین اسلام کے دفاع میں اپنا کردار تیسرے سال سے ہی شروع کر دیا تھا ۔

ب۔ مہربان ماں کی جدائی

جب شعب ابی طالب سے باہر تشریف لائیں تو مہربانی اور محبت کرنے والی ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور پانچ سال کی فاطمہ  یتیمی کا داغ لئے دل میں ہزاروں غموں کو سہتے ہوئے باپ کے پاس آئیں اور ماں کے بارے سوال کرتیں لیکن مہربان باپ اکلوتی یتیم بیٹی کو کیا جواب دیتے ؟

امام صادق  ارشاد فرماتے ہیں ۔ ماں کی وفات کے بعد جناب فاطمہ  اپنے عظیم باپ کے پاس ( روتی ہوئی ) آئیں اور پوچھتی ہیں ۔ بابا جان ؟ میری ماں کہاں ہیں رسول خدا  ۖ جواب نہیں دے رہے ۔ فاطمہ کا اصرار بڑھ رہا تھا اور رسول خدا سوچ رہے تھے کہ اپنی لخت جگر کو کیسے بتاؤں کہ ان کی ماں کہاں ہے !!! کہ جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کیا ۔ اے رسول خدا  ۖ ! خداوند تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاطمہ کو سلام کہو اور بتاؤ کہ اے فاطمہ  ! تیری ماں ایک ایسے محل میں تشریف فرما ہیں جس کی بنیادیں مروارید اور ستون سرخ یاقوت کے ہیں جہاں مریم اور آسیہ ان کے ہمراہ تشریف فرما ہیں ۔ ١٠

ج۔ مدینہ کی طرف ہجرت

ماں کی وفات کے بعد نہ صرف پورے گھر کی ذمہ داری بلکہ رسول اللہ  ۖ کی دیکھ بھال بھی آپ  نے سنبھال لی اور یہ دونوں ذمہ داریاں آپ نے احسن طریقے سے انجام دیں، رسول خدا  ۖجب کفار کی طرف سے اذیتیں اور تکلیفیں سہنے کے بعد گھر میں تشریف لاتے تو حضرت زہرا   تسلی دیتیں اور آپ  ۖکے سر مبارک سے خاک و خون کو صاف کرتیں ۔

ابن ابی الحدید نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ چند کافروں نے دیکھا کہ رسول خدا  ۖخانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھ رہے ہیں انہوں نے آپ کو اذیت دینے کا منصوبہ بنایا اور ایک ذبح شدہ اونٹ کی آنتیں اور کثافتیں عین سجدہ کی حالت میں آپ پر ڈال دیں لیکن آپ  ۖنے سجدہ سے سر نہ اٹھایا ، صدیقہ طاہرہ   کو اطلاع ملی تو روتی ہوئی تشریف لائیں اور حضور  ۖسے ان کثافتوں کو دور کیا اور باپ کو تسلی دی ۔ ١١

کفار کی اذیتیں حد سے بڑھ چکی تھیں ( آخرکار انہوں نے رسول خدا  ۖ ) کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن آپ  ۖخدا کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے ، تین دنوں کے بعد صدیقہ طاہرہ نے بھی آٹھ سال کی عمر میں اپنے پیارے وطن اور مہربان ماں کی قبر کو الوداع کیا اور امیر المومنین  کے ہمراہ چند دوسری خواتین کے ساتھ مدینہ تشریف لائیں اس تمام عرصہ میں یہ شجاع بیٹی کبھی بھی اپنے بابا کے سامنے حرف شکایت لب پر نہ لائیں اور ہر قسم کی اذیتیں اور تکلیفیں برداشت کیں ۔

کیا آج کی بیٹیاں اس زمانہ کی مشکلات کو سہنے میں اور اپنی زندگی کے ہدف تک پہنچنے کے لیے آپ  کی سیرت پر عمل نہیں کر سکتیں کیا یہ بیٹیاں ایسا نہیں کر سکتیں کہ بجائے اپنی مشکلات ماں باپ کے سامنے پیش کر کے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کریں ؛ بنفس نفیس ان کو تسلی دیں اور ان کے ساتھ مل کر مشکلات کو حل کریں ؟

٢۔ جناب زہرا  بیوی کی حیثیت سے

الف۔ شوہر کے ساتھ رفتار

مدینہ میں ہجرت کے دو سال بعد دس سال کی عمر میں آپ نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز فرمایا اور اپنے شوہر سے ایسے حسن سلوک سے پیش آئیں کہ آپ کی پوری زندگی میں امیر المومنین  نے دوسری شادی کا ارادہ تک نہیں فرمایا اگرچہ اس زمانے میں ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج عام تھا ۔

شوہر کے ساتھ حسن سلوک کے بارے ہم چند پہلوؤں کا ذکر کرتے ہیں ۔

ب۔ کاموں کی تقسیم

میاں اور بیوی کے اکثر اختلافات کا منشاء گھریلو مشکلات خصوصا گھریلو کاموں کی صحیح تقسیم کا نہ ہونا ہے اور اپنے وظائف کو صحیح طریقے پر انجام نہ دینا ہے ۔ شادی کے بعد امیر المومنین  ـاور صدیقہ طاہرہ  ، رسول گرامی  ۖ کے پاس تشریف لاتے ہیں اور ان سے گھر کے کاموں کی تقسیم کا تقاضا کرتے ہیں ۔

امام باقر  ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول خدا  ۖنے آپ دونوں کے درمیان گھریلو کام کاج کو اس طرح تقسیم فرمایا ۔

١۔ فقضیٰ علی فاطمة ما دون الباب و قضی علیٰ علی بما خلفہ ۔ ١۴

گھر کے اندر کے کام کاج فاطمہ  کی ذمہ داری ہے اور گھر سے باہر کے کام علی  ـ کے ذمہ ہیں ۔

امام صادق  ـ ارشاد فرماتے ہیں : امیر المومنین  ایندھن کے لیے لکڑیاں اور پانی لاتے اور جھاڑو دیتے جبکہ صدیقہ طاہرہ چکی پیستیں ، خمیر بناتیں اور روٹی پکاتی تھیں ۔ ١۵

عالم انسانیت کے یہ دو عظیم پیشوا نہ صرف اپنے اپنے وظائف انجام دیتے بلکہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ایک دن پیغمبر گرامی فاطمہ زہرا  کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ امیر المومنین  ـ اور صدیقہ طاہرہ  اکٹھے کاموں میں مشغول ہیں اور مل کر چکی پیس رہے ہیں سلام کے بعد ارشاد فرماتے ہیں ایکم اعی۔ تم میں سے کون زیادہ تھکتا ہے ؟ امیر المومنین عرض کرتے ہیں ۔ آپ کی لخت جگر فاطمہ  ۔ ١۶

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب امیر  بیرونی کاموں کے علاوہ اندرونی کاموں میں بھی صدیقہ طاہرہ   کا ہاتھ بٹاتے تھے جب جناب فضہ خادمہ کی حیثیت سے گھر میں تشریف لائیں تو پھر بھی صدیقہ طاہرہ نے کاموں سے ہاتھ نہیں کھینچے بلکہ ایک روز خود کام کرتیں اور فضہ استراحت کرتیں ، دوسرے روز فضہ کام کرتیں اور آپ  استراحت فرماتی تھیں ( فرہنگ سخنان فاطمہ ص ٢٣٧)

ج۔ خانوادے کی عزت و آبرو کی حفاظت

رسول خدا  ۖکی لخت جگر ایک ایسے شوہر کے گھر تشریف لائیں جو نہ تنخواہ دار تھے نہ زمیندار بلکہ ان کی مستقل آمدنی تک نہیں تھی ۔ ایک ایسے شوہر کہ کبھی کام مل جاتا اور کبھی اجرت بھی نہ ملتی اور خالی ہاتھ گھر میں تشریف لاتے لیکن آگاہ اور عزت شناس زوجہ کبھی بھی حرف شکایت زبان پر نہیں لائیں ۔ ابتداء میں رسول خدا  ۖکے ساتھ زندگی گزارتے تھے لیکن پھر ایک کرائے کے مکان میں تشریف لے گئے جس کے مالک کا نام حارثہ بن نعمان تھا۔ ١٧

آپ  ـنے نہ صرف گھریلو مشکلات کی شکایت اپنے غیر تنخواہ دار شوہر سے نہ کی بلکہ بعض اوقات خانوادے کی عزت و آبرو کی خاطر خود بھی محنت کی ۔

امیر المومنین  شمعون یہودی کے پاس جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کیا تو اس پر راضی ہے کہ کچھ مقدار پشم رسول اللہ  ۖکی بیٹی ٩ کلو جو کے عوض کاتے تو یہودی نے رضایت کا اظہار کیا ، امیر المومنین  پشم گھر لے آئے اور صدیقہ طاہرہ  نے گھر بیٹھ کر مزدوری شروع کر دی ۔ ١٨

ایک مرتبہ امیر المومنین  گھر تشریف لاتے ہیں اور غذا طلب فرماتے ہیں تو صدیقہ طاہرہ  فرماتی ہیں گھر میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں جو ہم نے آپ  ـ کو پچھلے دو روز کھلایا تھا ۔ امیر المومنین ـفرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی تو کائنات کے رسول کی بیٹی ایک ایسا جملہ فرماتی ہیں جو عالم کی خواتین کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ آپ  فرماتی ہیں : اے ابو الحسن ۔ انّی لاستحیی من الھی ان اکلّفک ما لا تقدرعلیہ١٩ مجھے اپنے خدا سے شرم آتی ہے کہ آپ ـسے ایسی چیز کا تقاضا کروں جس پر آپ ـ قدرت نہیں رکھتے ۔

د۔ شوہر سے محبت اور فرمانبرداری

گھر میں فاقہ سے زندگی گزارنے کے باوجود نہ صرف آپ  نے علی  سے شکایت نہیں کی بلکہ محبت اور اطاعت شوہر میں بھی کبھی فرق نہیں آنے دیا اور کبھی بھی شوہر کی رضا کے خلاف کام نہیں کیا ۔ ایسی محبت بھری رفتار سے پیش آتی تھیں کہ تھکے ہارے شوہر کی تمام تھکاوٹ گھر آنے سے دور ہو جاتی اور تمام حزن و الم دور ہو جاتا جناب امیر  خود ارشاد فرماتے ہیں '' میں نے کبھی فاطمہ   کو ناراض نہیں کیا اور خدا کی قسم نہ ہی کسی کام پر ان کو پوری زندگی میں مجبور کیا ( اس کے مقابل ) فاطمہ  نے بھی کبھی مجھے غضبناک نہیں کیا اور نہ ہی میری نافرمانی کی میں جب بھی آپ  کی طرف نظرکرتا تو میری تمام تھکاوٹ اور حزن وملال دور ہو جاتا ۔ ٢٠

صدیقہ طاہرہ  اپنی آخری وصیت میں فرماتی ہیں : اے پیغمبر کے چچا زاد ! میں نے نہ ہی کبھی آپ سے جھوٹ بولا اور نہ ہی خیانت و نافرمانی کی ۔ امیر المومنین  یہ کلام سن کر فرماتے ہیں ۔ معاذ اللہ ! آپ  خدا کے احکام کو بہتر جانتی ہیں، آپ کی نیکو کاری ، تقرب و تقویٰ اور خشیت خدا بہت زیادہ ہے ، آپ کی جدائی میرے اوپر بہت گراں ہے ٢١

فاطمہ زہرا کی شوہر سے رفتار اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آپ  اپنی عصمت و عظمت کے باوجود شوہر کے حقوق کی پاسداری کے لیے انتہائی کوشاںتھیں کہ حتی اپنی زندگی کے آخری ایام میں امیر المومنین  سے رضایت طلب کی یہی وجہ ہے کہ جناب امیر  آپ کی شہادت کے بعد خدا سے اپنی رضایت کا اعلان اس طرح فرماتے ہیں۔ لا شفیع للمرأة عند ربھا من رضی زوجھا۔ خدا کے نزدیک عورت کی شفاعت کے لیے اس کے شوہر کی رضا سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ۔ ٢٣

٣۔بچوں سے رفتار

ماں باپ کے اہم ترین وظائف میں سے یہ ہے کہ وہ تربیت یافتہ اور صحیح و سالم فرزند معاشرے کے حوالے کریں جو معاشرے ا ور انسانیت کے لیے باعث رحمت و فائدہ ہو نہ کہ معاشرے کے لیے مضر ہو۔ صدیقہ طاہرہ  کی سیرت بحیثیت مادر خواتین عالم کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔

الف۔زہرا   ماں کی حیثیت سے

حضرت زہرا ایک آگاہ اور دور اندیش ماں تھیں کہ جن کی محبت اور شفقت کا ایک خاص انداز تھا ، آپ  بہترین اشعار اور قصوں سے اپنے بچوں کے دل بہلاتیں اور مستقبل میں زندگی گزارنے کا طریقہ بیان فرماتی تھیں ۔

١مام حسن ـکو بہلاتے ہوئے فرماتی ہیں ۔

اشبہ اباک یا حسن

واخلع عن الحق الرسن

واعبد الھا ذا منن

و لا توال ذا الحن

اے حسن بیٹے ! اپنے باپ کی شبیہہ بنو ، رکاوٹوں کو اپنے حق سے دور کرو ، صاحب لطف و عنایت خدا کی عبادت کرو اور کینہ ور افراد کی پیروی نہ کرو ۔

امام حسین  ـکو اس انداز سے بہلاتی ہیں ۔

انت شبیہ بابی

لست شبیھا بعلی

تم میرے باپ کی شبیہہ ہو اور علی  ـسے مشابہت نہیں رکھتے ۔ ٢۴

بچوں کی تربیت میں کھلانے کے انداز اور اس کے نقش کے بارے یوں ارشاد فرماتی ہیں ۔ من کان عندہ صبی فلینصاب لہ۔ ٢۵

جس کا چھوٹا بچہ ہو اسے اپنے بچے کے ساتھ بچہ بننا چاہئیے یعنی اپنے بچے کے ساتھ کھیلے اور اسے خوش رکھے ۔

ب۔بچوں کے درمیان مساوات

بچوں کے درمیان آپس میں حسد اور کینہ پیدا نہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے درمیان مساوات سے پیش آیا جائے حدیث شریف میں ہے ، اپنے بچوں کے درمیان اس طرح عدالت سے پیش آؤ جس طرح تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ عدالت و مہربانی سے پیش آئیں ۔ ٢۶

صدیقہ طاہرہ  نے اس اہم اصول کو اجاگر کرنے اور جامعہ اسلامی کو اس سے روشناس کرانے کے لیے ہمیشہ اپنے بچوں کے درمیان عدالت و مساوات کو برقرار رکھا ۔

ایک مرتبہ حسنین شریفین  اپنی اپنی خوشخطی آپ  کے پاس لائے تاکہ فیصلہ کرائیں کس کی تحریر زیادہ خوشخط ہے لیکن کسی ایک کی حوصلہ شکنی کے خوف سے آپ  نے قضاوت نہیں فرمائی اور امیر المومنین  کے پاس بھیج دیا انہوں نے رسول خدا  ۖکے پاس بھیجا اتنے میں حضرت جبرائیل نازل ہو گئے کہ ان دونوں کے درمیان قضاوت فاطمہ کو کرنا ہے ۔ حضرت فاطمہ نے اپنے گلے کے ہار کے دانوں کو زمین پر بکھیرتے ہوئے فرمایا ۔ جس نے زیادہ دانے جمع کیے اس کی تحریر زیادہ خوشخط ہو گی دونوں بھائیوں نے برابر دانے اکٹھے کئے ایک دانہ باقی تھا ۔ جبرائیل نے تیر مار کر دانے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ کسی کی حوصلہ شکنی نہ ہو ، اس طرح سے کسی کا بھی دل نہ ٹوٹا ۔ ٢٧

اس طرح کی مساوات کے کئی واقعات ملتے ہیں کہ جس سے فرزندان کمال تک پہنچنے کے علاوہ باہمی احترام کے بھی قائل ہوں شاید یہی وجہ ہے امام حسین ـ، امام حسن ـکے انتہائی احترام کے قائل تھے اور کبھی بھی ان کے حضور گفتگو نہیں کرتے تھے ۔ ٢٨

ج۔عبادت کی ترغیب

بہت سارے والدین اپنے بچوں کی ہر طرح سے پرورش کرتے ہیں اور ان کی تربیت کا خیال رکھتے ہیں لیکن ان کے بچے عبادت خدا کی طرف مائل نہیں ہوتے یہاں پر صدیقہ طاہرہ کی سیرت کی پیروی کرنا ضروری ہے کیونکہ آپ نے اپنے بچوں کی تربیت اپنے عمل کے ساتھ کی ہے ۔ امام حسن  ـ ارشاد فرماتے ہیں ہم نے شب جمعہ اپنی مادر کو محراب عبادت میں دیکھا کہ ایسے رکوع و سجود میں مشغول ہوئیں کہ صبح ہو گئی ۔ ٢٩

یہی وجہ ہے کہ آپ  کے بیٹے اور بیٹیوں نے مقام عبادت میں اپنی ماں کی خالی جگہ پر کی اور انتہائی مصائب و مشکلات کے باوجود نماز شب تک کو ترک نہیں کیا ۔

۴ ۔جناب زہرا  اور اسلامی معاشرے کی رہنمائی

انفرادی زندگی کے علاوہ اجتماعی زندگی میں بھی آپ  ایک کامل نمونہ تھیں اور وہاں پر آپ نے محسوس فرمایا کہ معاشرہ کو آپ کی ضرورت ہے چنانچہ آپ  نے اپنا کردار ادا کیا ۔ امام کی حمایت کا مسئلہ ہو یا عوام کے حقوق یا شہداء کے خانوادے کے پاس جانا ہو آپ  نے اپنا کردار ادا کیا لیکن اختصار کی وجہ سے ہم آپ کے یہ پہلو ذکر نہیں کر سکتے صرف پردے کے حوالے سے آپ کی سیرت کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں ۔

۵۔۔پردہ

پیغمبر گرامی  ۖفرماتے ہیں: بہترین عورت وہ ہے جو اپنے آپ کو بیگانے مردوں اور نا محرم نظروں سے دور رکھے ، ایسے مقامات پر جانے سے پرہیز کرے جہاں بیگانے اس کی طرف دیکھنے والے ہوں ۔ ٣٠

صدیقہ طاہرہ  عفت و حیا کا پیکر تھیں آپ  کا گھر کے اندر اور باہر کا پردہ ، دنیا جہان کی خواتین کے لیے قابل عمل نمونہ ہے ۔

جناب امیر ـفرماتے ہیں ایک دن فاطمہ آنحضرت کے محضر میں تشریف فرما تھیں کہ ایک نابینا شخص نے اجازہ ورود طلب کیا فاطمہ اٹھ کر اندر تشریف لے گئیں ،جب وہ شخص چلا گیا تو آپ واپس تشریف لائیں ۔ رسول خدا  ۖ نے فرمایا وہ شخص تو نابینا تھا ،عرض کرتی ہیں ۔ ان لم یکن یرانی فانی اراہ اگر وہ مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا تو بہر حال میں تو اسے دیکھ سکتی تھی ۔٣١

آپ گھر سے باہر بھی تشریف لاتی تھیں اور ایک کامل حجاب کے ساتھ قبرستان شہداء میں تشریف لے جاتیں ۔

وسائل الشیعہ میں حدیث ہے ۔۔۔ تأتی قبور الشھداء کل جمعة مرتین الاثنین و الخمیس ٣٢

ہر جمعہ دو مرتبہ سوموار اور جمعرات کو شہداء کی قبروں پر تشریف لے جاتیں ۔

ابن ابی الحدید نقل کرتے ہیں جناب فاطمہ  نے سنا کہ فلاں نے فدک سے آپ کو منع کر دیا ہے تو ''لاثت خمارھا و اقبلت فی لمّة من حفدتھا و نساء قومھا تطاء فی ذیولھا ما تخرم٣٣ آپ  نے مقنعہ (دوپٹے) کو اپنے سر پر لپیٹا اپنے گھر اور قبیلے کی عورتوں کے درمیان ایسی حالت میں تشریف لائیں کہ وہ لباس آپ کے پاؤں کو چھپائے ہوئے تھا ۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنے ضروری مسائل کے لیے اجتماع کے درمیان اپنے پردہ کی رعایت کرتے ہوئے آ سکتی ہے اس طرح آج کی ضروریات کے مد نظر مراجع عظام کے فتاوی موجود ہیں کہ عورت اپنے حجاب کامل کی رعایت کرتے ہوئے سکولوں میں تعلیم حاصل کر سکتی ہے ، سرکاری اور نجی اداروں میں بھی اسلامی پردہ کی رعایت کرتے ہوئے کام کر سکتی ہے ۔

حوالہ جات

١۔ سورہ احزاب ٢١ ، ٢۔ بحار ج ۴٣ ص ٣٩ ، ٣۔ایضا ، ۴۔ بحار ج ۴٣ ص ٢۶ ، ۵۔ ایضا ٢١ ، ۶۔ ایضا ٢٧ ، ٧۔ بحار ج ۵٣ ص ١٨٠ ، ٨۔ بہمن ایرانی مہینے کا نام ہے ، ٩۔ صحیفہ نور ،ج ٢١ ص ٧۶، ( نقل از فاطمہ در کلام امام ، مقالہ ) ١٠۔ بحار ج ۴٣ ، ص ٢٧ ، ١١۔ شرح ابن ابی الحدید ، ١٢۔ صحیح مسلم کی شرح بنام شرح نووی ج ١۶، ص ٢ ، ١٣۔ بحار ۴٣ ، ص ١۶، ١۴۔ بحار ایضاً ٨١ ، ١۵۔ وسائل الشیعہ ، ج ١٨ ، ص ۴١ ، ١۶۔ بحار ج ۴٣ ، ص ۵٠، ١٧۔ بحار ج ٩ ، ص ١١٣، ١٨۔ بحار ج ٣۵، ص ٢٣٧، ١٩۔ بحار ج ۴١ ، ص ٣٠ ، ٢٠۔ بحار ج ۴٣، ص ١٣۴، ٢١۔ روضة الواعظین ج١ ، ص ١۵١، ٢٢۔ بحار ج ١٠٣ ، ص ٢۵۶، ٢٣۔ خصال شیخ صدوق ج٢ ، ص ۵٨۶، ٢۴۔ بحار ۴٣، ص ٢٨۶، ٢۵۔ من لا یحضرہ الفقیہ ج٣، ص ۴٨٣، ٢۶۔ مکارم الاخلاق ص ٢٢١، ٢٧۔ بحار ج ۴٣ ص ٣٠٩، ٢٨۔ بحار ج ۴٣ ، ص ٣١٩، ٢٩۔ وسائل ج٧، ص ١١٧،٣١۔ بحار ج۴٣، ص ١٩، ٣٢۔ وسائل ج٣، ص ٢٢۴، ٣٣۔ شرح ابن ابی الحدید ج ١۶، ص ٢۴٩، احتجاج میں حدیث اس طرح ذکر ہوئی ہے ۔۔۔ لاثت خمارھا علی رأسھا و اشتملت بجلبابھا ، ج١ ص ٩٧،

/ 2 نظر / 7 بازدید
h

سلام رفیق. به زبان اردو نوشتی و من متوجه نشدم. اما از دیدنت خوشحالم.

h

ممنون دوست بسیار عزیز. اگر پاکستانی هستید برایتان آرزوی توفیق می کنم و امیدوارم کشورتان هرچه زودتر روی آرامش رو ببینه و مردم از جنگ و خونریزی و اختلافات قومی و مذهبی خلاص بشن. و اگر هندوستانی هستی به فرهنگ کشورت احترام می گذارم که تمام ادیان رو با دیده ی احترام در خودش پذیرفته. شیعه در همه جا مظلوم هست در پاکستان بسیار مظلوم تر. خدا شر ظالمان را از سر شیعه کم بکند انشالله. موفق باشی دوست من...