نظریہ معرفت

نظریہ معرفت  (پہلی قسط)

رجب  علی مصطفوی

تعریف

نظریہ معرفت ،علمیت یا معرفت شناسی( theory of knowlege )فلسفہ کی ایک شاخ ہے ۔اس علم کی مختلف تعاریف ذکر کی گئی ہیں جیسے :

ایسا علم  جسمیں انسان کے اعتقادات کی توجہیہ کی جاتی ہے

ایسا علم جسمیں علم کی ماھیت اور محدودہ  ،فرضیات،دعووں کے اعتبار کے بارے بحث کی جاتی ہے

ایسا علم جسمیں  علم اورمعرفت کےسرچشموں،بناوٹ،طریقوں اور ان کے معتبر ہونے یانہ ہونے کے بارے گفتگو کی جاتی ہے۔

ایسا علم جسمیں انسان کے علم ومعرفت ، اس کی اقسام وانواع  اور ان معلومات کے سچے اور جھوتے ہونے کے ملاک ومعیار کی بارے گفتگو کی جاتی ہے۔

 ان تمام تعاریف میں غوروخوض کرنے سے ایک اہم نکتہ واضح ہوتاہے اوروہ یہ کہ نظریہ معرفت سے مراد ایسا علم ہے جو انسانی معلومات کی پرکھ کرتاہے کہ معلومات حقیقی ہیں غیر حقیقی ،اور ان کے سچ اورجھوٹ کا معیار کیاہے

مسائل

اسی تعریف سے اس علم کے مسائل بھی واضح ہوجاتے ہیں جیسے معرفت کیاہے؟، معرفت کا حصول ممکن ہے یانہیں؟ ،حقیقت اورواقعیت موجودہے یانہیں؟ حقیقت اور غیر حقیقت کو ایدوسرے سے کیسا جداکیاجاسکتاہے؟ معرفت کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اس کے سرچشمہ کیاہیں ؟ کونسا سرچشمہ سب سے زیادہ قابل اعتبارہے؟و۔۔۔۔

موضوع

اسی طرح ان مسائل میں نظردوڑانے سے ہمارے لئے ایک اور نکتہ بھی واضح ہوجاتاہے اوروہ یہ کہ اس علم کا عنوان اور موضوع کہ جس کے اندریہ تمام مسائل سما سکتے ہیں خود عنوان علم اور معرفت ہے۔ تو پس اس علم کا موضوع " معرفت" ہے اور یہ علم کلی طور معرفت کے بارے گفتگو کرتاہے  نہ مخصوص معرفتوں کے بارے جیسے عرفانی معرفت،دینی معرفت۔

ایک چینی حکایت

مزید وضاحت کے لئے درج ذیل حکایت ملاحظہ کریں:

ایک دفعہ کاذکر ہے کہ چوانگ،تزو اور ان کی دوست ھویی ،نہرھائو کی پل پر سیر کررہے تھے  اور پل کے نیچے بہنے والے نیلگوں پانی کی نظارہ کررہے تھے۔

چوانگ: " دیکھو دیکھو یہ مچھلیاں کتنی خوش ہیں اور خوشی سے اوپر کی طرف چھلانگیں لگارہی ہیں؟ "

ھویی : " تم مچھلی نہیں ہو پھر کیسے کہتی ہو کہ مچھلیاں خوش ہیں اور خوشی سے چھلانگیں لگارہی ہیں؟ تمہیں کیسے پتہ چلا؟ "

چوانگ:" تم بھی تو "میں " نہیں ہو پھرتمہیں کیسے پتہ چلا کہ مجھے ان کی خوشی کے بارے پتہ نہیں ہے؟ "

ھویی :  "  ٹھیک ہے میں "تم " نہیں ہوں  اور تیرے دل کا حال نہیں جانتا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تم مچھلی نہیں ہو اور مچھلیوں کی خوش ہونے یا نہ ہونے کے بارے نہیں جانتی ہو؟

چوانگ : " تیری یہ سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن  مجھے مچھلیوں کے خوش ہونے کاعلم مجھے اپنی خوشی کی وجہ سے ہوا کہ جب میں نے انہیں چلانگیں لگاتے ہوئے دیکھا تو میرے دل میں خوشی محسوس ،جس سے میں نے یہ سمجھا کہ مچھلیاں بھی خوش ہیں۔

اس چینی قصہ کو ۳۰۰ سال  قبل از میلا د مسیح سے زیادہ عرصہ ہورہاہے ،تاہم ہمیں سمجھاتاہے کہ انسان کے دعووں میں کتنے فرضیات چھپے ہوئے ہیں کہ جب ان کے پس پردہ حقائق کی طرف متوجہ ہوتاہے تو پتہ چلتاہے یہ تمام دعوئے ظاہرا یقینی تھے لیکن ایک تھوڑے سے شبھ کے داخل ہونے وہم وگمان میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور اسی طرح کتنے ہیں شکوک وشبھات ہیں کہ جب ان میں خوروخوض کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو یقینی اور حقیقی تھیں ۔

اصولا انسان اس جھان کے متعلق اپنے تصورات پر خوش اور قانع ہے اور بہت کم ایسا ہوا ہے کہ وہ غور وفکر کرے کہ یہ تمام معلومات اس کو کیسے حاصل ہوئیں ؟ کہ ان پر یقین کربیٹھا ہے ممکن یہ تمام معلومات اوراطلاعات غلط ہوں۔؟ آپ کو کیسے یقین ہے میری تمام معلومات صحیح اور حقیقی ہیں ؟ طبعا شک سے باہر آنے اور یقین کی منزل تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ دیکھیں آپ کی ان اطلاعات کا سرچشمہ کیاہے ؟ان اطلاعات کے یقینی ہونے پر آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟یہی وہ مقام ہے کہ جہاں متفکرین اور فلاسفر اصل معرفت ،علم اور شناخت کی طرف متوجہ ہوئے کہ اصلاً معرفت کیا ہے َ؟ کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اس کے صحت و سقم کا معیار کیاہے ،؟ اصلا حقیقت کا کوئی وجود ہے ؟ ممکن ہے کہ انسان اصل حقیقت تک پہنچ سکے؟ کیسے پتہ چلے گا میں حقیقت تک پہنچ گیاہوں۔؟    

روش وطریقہ کار

ہر علم میں موجود مسائل کے بارے بحث وتحقیق (resach )میں ایک خاص روش اور طریقہ استعمال کیاجاتاہے جیسے علم فقہ میں مثلا قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کے ضمن میں سرچ کی جاتی ہے کہ جس کو نقلی روش کہتے ہیں اسی طرح علم معرفت شناسی میں روش تعقلی اورمنطقی استعمال کی جاتی ہے  نہ روش نقلی اور نہ ہی روش تجربی جیسے فیزیکدان علوم تجربی میں استعمال کرتاہے کیوں کہ وہ علوم محسوس ہیں لیکن یہاں چونکہ اصل معرفت کو جو علوم کی بنیاد اور اساس کے بارے سرچ کی جاتی ہے لہذا عقلی طریقہ کار استعمال کیاجاتاہے۔

تحلیل معرفت

اسلامی فلاسفروں نے دومختلف زاویوں سے علم اور معرفت کے بارے سرچ کی ہے:

۱ ۔ وجودی زاویہ سے جیسے: علم و ادراک کامجردہونا ، حصول ادارک وعلم کی کیفیت ، ادراک کی قوتیں،و۔۔۔

۲۔  منطقی اور مفہومی زاویہ سے ۔جیسے: علم حصولی اور حضوری،تصور اور تصدیق ،و۔۔۔۔

اقسام معرفت

اقسام معفرفت کو سمجھنے کے لئے اس مثال کی طرفتوجہ کریں

الف۔ خدا ہے، وہ عالم اور قادرہے

ب۔ خدا عقل سے ثابت ہوتاہے

یہاں دوجملوں الف اور ب کے درمیان فرق ہے یانہیں َ

اگر فرق ہے تو کیا فرق ہےَ؟

تھوڑے سے غوروفکر سے پتہ چلتاہے کہ جملہ الف میں خداکے بارے اطلاعات ہیں کہ وہ وجود رکھتاہے، عالم اورقادر ہے۔ لیکن جملہ ب میں جملہ الف کی اطلاعات کی معرفت ہے یعنی دوسرے جملے میں ہم باہر سے جملہ اول کی اطلاعات کے بارے نظارہ کررہے ہیں اور ان کے صحیح یاغلط ہونے کے بارے گفتگو کررہے ہیں کہ وہ خداکہ جووجود رکھتا ہے ، عالم اورقادر ہے اس کا اثبات ممکن ہے ،اس کا اثبات کا طریقہ کارعقلی ہے ،اور باآخرہ عقل اس کو ثابت کرتاہے۔

پس پہلی قسم کے جملوں معرفت درجہ اول کہتے ہیں اور دوسری قسم کے جملوں کو معرفت درجہ دوم کہاجاتاہے اور جیسا کہ آپ نے دیکھا پہلے جملے میں معرفت کا متعلق " خود معرفت نہیں بلکہ خدااور اس کی صفات ہیں" جبکہ دوسرے جملے میں خود معرفت اور علم ، متعلق معرفت ہے یعنی خدااوراس کی صفات کے بارے علم ،معرفت کا متعلق ہے

اورعلم معرفت شناسی میں اس درجہ دوم کی معرفت کے بارے سرچ کی جاتی ہے ۔اور درجہ اول کی معرفت دوسرے علوم جیسے فلسفہ ، ریاضی، طبیعات،و۔۔۔

حصول معرفت کے آلات

علم ودراک کے لئے انسان کے پاس مختلف قسم کے آلات ہیں

۱۔ حواس

۲۔ عقل

۳۔وحی والھام

۴۔ شہود ومکاشفہ

۵۔ دینی تجربہ اور مرجعیت

باقی آئندہ انشاء اللہ

 

 

/ 0 نظر / 15 بازدید