حادثہ کربلا اور تحریف

 تحریف کیا ہے

تحریف عربی زبان کا لفظ ہے جو کلمہ '' حرف '' سے نکلا ہے ، جس کا معنی طرف اور کنارے کے ہیں جیسا کہ سورہ حج میں ارشاد خداوندی ہے :  ''ومن الناس من یعبداللہ علیٰ حرف فان اصابہ خیر اطمئن وان اصابتہ فتنہ انقلب علیٰ وجھہ''(الحج ١١)اور لوگوں میں سے نعض ایسے ہیں جو اللہ کی عبادت طرف اور کنارے پر کرتے ہیں اگر انہیں خیر ملے تو مطمئن رہتے ہیں لیکن اگر کوئی آزمائش آجائے تو اپنا منہ موڑ لیتے ہیں ۔ یعنی وہ وسط اور حقیت بندگی میں نہیں بلکہ طرف اور کنارے پرہیں  ۔لہذا کوئی آزمائش آپڑے تو اس کی بندگی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

صاحب مجمع البحرین لکھتے ہیں:  '' تحریف الکلام :تغییرہ عن مواضعہ'' (مجمع البحرینج۵ص٣۵) یعنی کلام کو اپنی محل اور مقام سے تبدیل کردینا۔اور صاحب قاموس قرآن لکھتے ہیں :تحریف شی :بہ یک طرف بردن آن چیزی است (قاموس قرآن ١٢١٢) یعنی کسی چیز کو ایک طرف لے جانا۔راغب '' المفردات ''میں تحریف کا معنی یوں کرتے ہیں:''تحریف الکلام ان تجعلہ علیٰ حرف من الاحتمال یمکن حملہ علیٰ الوجھین ۔ قال عزشانہ'' ویحرفون الکلم عن مواضعہ(النساء ۴۶) ویحرفون الکلم من بعد مواضعہ (المائدہ۴١)''تحریف کلام سے مراد یہ کہ کلام کو احتمال کے کونے پر قرار دیں تاکہ اس کودو وجھوں پر حمل اور منطبق کیا جاسکے تو اس اعتبار سے کسی صریح کلام اور گفتگو کو اس کی صراحت سے نکال کراس کو''محتمل '' بنا دینا تحریف کہلائے گا جیسا کہ قرآن مجید میں اس جملہ کے بعد'' من بعد ماعقلوہ'' اس بات پر قرینہ ہے۔ یعنی بعد اس کے کہ وہ مقصود کلام کوجانتے تھے اس کو اپنے صریح معنی سے منحرف کرتے تھے۔                                                        

پس تحریف سے مراد'' کسی چیز کو اس کے صحیح اوراصلی راستے سے ہٹاکر ایک طرف پر لے جانا'' یا کسی صریح کلام کو(کہ جس کامعنی واضح اور روشن ہو) اس کے معنی سے منحرف کرنا ہوگا۔                                                               

اقسام تحریف 

 تحریف کی مذکورہ بالا تعریف سے ہمارے لئے اس کی دو اہم قسمیں بھی روشن ہو جاتی ہیں اور وہ یہ کہ تحریف کبھی تو لفظ اور شکل میں ہوتی ہے اور کبھی اس کے معنی اور تفسیر میں ہوسکتی ہے۔ پس(١)تحریف لفظی سے مراد کسی کے کلام میں کسی چیز کا اضافہ یا کمی کرنا یا اس کے کلام کے جملات کو اس طرح آگے پیچھے کرنا کہ مقصودمتکلم کے خلاف ہو جائے۔                

(٢) تحریف معنوی سے مراد یہ ہے کہ خود کلام میں کوئی تصرف نہ کیا جائے لیکن اس کی تشریح اور تفسیر اس طرح کی جائے کہ اس کلام پر منطبق نہ ہو سکے اور مقصود متکلم کے خلاف ہو۔ بہر حال تحریف چاہے لفظی ہو یا معنوی ''متکلم کی کلام میں خیانت اور مخاطبین اور سامعین کو اس کے کلام سے دھوکہ دینا''ہے۔ کہ جس کے آثار اس وقت انتہائی مہلک اور خطرناک ہوجاتے ہیں جب یہ تحریف کسی ایسی شخصیت کے کلام میں کی جائے ،جن کی کلام لوگوں کے لئے حجت اور سند کی حیثیت رکھتی ہو اور لوگوں کے اعتقادات ، تربیت اور اخلاق اس کلام سے وابستہ ہو۔ کیونکہ اس صورت میں تحریف کرنے والا شخص نہ صرف اس شخصیت سے خیانت کررہا ہے اور لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے بلکہ ان کے اعتقادات، ان کی تربیت اور ان کے اخلاقیات کے ساتھ بھی بازی کررہا ہے ۔ اور اگر بالفرض لوگ اس کی اس تحریف سے خبردار نہ ہوں تو یہ شخص ان کے دین کو تباہ اور برباد کرکے رکھ دے گااور شاید یہی وجہ ہے کہ علماء کرام (متکلمین اور فقہائ) معصومین  کی طرف سے نقل شدہ اخباراور احادیث میں انتہائی دقت سے کام لیتے ہیں اور علم رجال ، درایہ،  واضعین احادیث کی شناخت وغیرہ جیسے علوم کی ضرورت پڑی۔کہ جس پر کئی کتابیں لکھی جاچکی اور لکھی جارہی ہیں۔                                

حادثہ کربلامیں تحریف

بزرگوں نے تاریخ اسلام کے اس عظیم سانحے کے بارے کئی گوشوں کے ساتھ بہت کچھ لکھا اور لکھ رہے ہیں انہیں گوشوں میں سے ایک گوشہ ،اس سانحہ میں تحریف کے ہونے، نہ ہونے اور پھر اس تحریف کے خطرناک آثار کے بارے ہے کہ اس پربھی سیرحاصل بحث کی ہے ۔ کہ جس کیلئے دو دین شناس اور دین کا درد رکھنے والے مصنیفین کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا

١۔محدث خبیر اور مدقق بصیرحضرت میرزا حسین نوری اعلیٰ اللہ مقامہ کہ جنھوں شیخ حر عاملی کی وسائل الشیعہ کا استدراک '' مستدرک الوسائل ''کہ جو ٣٠ جلدوں میں ہے، کے نام سے لکھ کر اور شیخ عباس قمی صاحب مفاتیح الجنان جیسے عظیم شاگرد پیدا کرکے پوری قوم شیعہ پر بہت بڑا احسان کیاہے  ۔ انہوں نے اس بارے '' لو لو ومرجان ''تحریر فرمائی کہ جس کی اہمیت صاحبان خبیر پر مستور نہیں ہے

٢۔اسلامی فلاسفراور آگاہ دانشور ، شہید راہ اسلام محمدی استاد مرتضیٰ مطہری اعلیٰ اللہ مقامہ کہ جنہوں نے نہ صرف دینی طلباء کی تربیت پر توجہ دی بلکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور یہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ایران میں مدارس دینیہ اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے درمیان دوگانگی کو ختم کرکے ان کے درمیان اتحاد کو ایجاد کیا کہ اب مدارس دینیہ کا استاد کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جاکر تعلیم دیتا ہے اور یونیورسٹی کا استاد مدارس میں آکر دینی طلباء کو تعلیم دیتا ہے ۔  ان کی تقریر کا مجموعہ '' حماسہ حسینی '' کے نام سے منتشر ہوا ہے جن میںانہوں حادثہ کربلا میں تحریف کے بارے انتہائی بہترین بحث کی ہے۔ کہ متاسفانہ ان کی اس کتاب کا اردوترجمہ ہونے پر ہندوستان میں بعض نادان دوستوںنے ان کے پتلے بناکر جلائے ۔لیکن الحمدللہ اب تمام روشن فکرحضرات ان کی اس کتاب کی اہمیت سے آگاہ ہیںاور انکو اس کاوش پر داد دیتے ہیں۔                                          

بہرحال یہ ایک جملہ معترضہ تھا کہ جو ہماری گفتگو میں در آیا ، ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیںکہ حادثہ کربلا میں بھی تحریف کی گئی۔ ابتدا ء میں دشمنوں نے جب دیکھا کہ حسین ابن علی  ـکی شہادت ،ان کی تباہی کا پیغام  بن رہی ہے تو انہوں نے اس واقعے میں تحریف کرنی شروع کی اور بنی امیہ کی تمام مشنری اس واقعہ کو غلط رنگ دینے کی کوششوںمیں مشغول ہوگئی کہ حسین بن علی  ـایک باغی شخص تھے وہ امت مسلہ کے درمیان تفرقہ اوراختلاف پھیلانا چاہتے تھے۔ لہذا ان کا قتل کرنا ضروری بلکہ واجب ہے۔اور اس طرح کے غلط پروپگنڈے لوگوں کے درمیان پھیلاکر اس حادثہ کو تحریف کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جیسا کہ شہید مطہری  لکھتے ہیں :بعد ھم حکومت اموی برای اینکہ ]دراین واقعہ[تحریف معنوی کردہ باشد، از ایم جور قضایا زیاد گفت ولی بہ اصطلاح نہ گرفت ، یعنی تاریخ اسلام تحت تاثیر این تحریف واقع نہ شد۔شما یک نفر مورخویک نفر صاحب نظر را در دنیا پیدا نمی کنید کہ این گونہ اظہار نظر کردہوگفتہ باشدحسین بن علی ۔العیاذبااللہ۔قیام نابجائی کرد۔آمد تا کلمہ مردم را تفریق کند، اتحادرا از میان ببرد؛ خیر این تحریف اثر نکرد کہ نکرد۔ پس دشمن نتوانست در حادثہ کربلاتحریفی ایجاد کند۔ در حادثہ کربلا با کمال تاسف ھر چہ تحریف شدہ است از ناحیہ دوستان است۔( مجموعہ آثار٨۵١٧)۔اس کے بعد حکومت بنی امیہ نے حادثہ کربلا میں تحریف کیلئے اس قسم کے کئی پروپگنڈے کئے، لیکن یہ اصطلاح نہ بن سکی یعنی تاریخ اسلام اس تحریف کے تحت اثر نہ آئی ، آپ ایک مورخ اور صاحب نظر شخص اس دنیا میں پیدا نہیں کرسکتے کہ جس نے کہا ہویا اظہار نظر کیا ہو کہ نعوذباللہ امام حسین ـنے بے جا قیام فرمایاہو ، مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلایا ہوان کے اتحاد کو پاراپارا کیا ہو ، ہر گز؛ان کی اس تحریف نے اثر نہیں کیا کہ نہیں کیا۔ پس دشمن حادثہ کربلا میں تحریف ایجاد نہیں کرسکا ، بڑے افسوس کی بات ہے کہ جو بھی اس حادثہ میں تحریف ہوئی دوستوں کی طرف سے ہوئی ۔                                                  

شہید کے اس بیان سے ثابت ہوتا کہ حادثہ کربلا میں تحریف اپنے نادان دوستوں کی طرف سے ہوئی اور دشمن اس تحریف میں کامیاب نہیں ہوسکے۔البتہ احمد بن حنبل ،اور اس کے ہمنوا بعض اشخاص کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بنی امیہ کے اس پروپیگنڈا کو قبول کرتے ہیں لہذا وہ امام حسین  ـکے بارے میں متضاد قسم کے نظریات اور یزید کو اچھا سمجھتے ہیں لیکن خود اہل سنت نے ان کو دندان شکن جواب دئیے ہیں اور یزید کے بارے اپنا حقیقی نظریہ بیان کیا ہے ۔( ملاحظہ ہو مجلہ پیام نجف شمارہ ٢، اہل سنت کے عالم دین سیدحسن نظامی کی تحریر)۔                                                       

 حادثہ کربلا میں تحریف کے عوامل

جیسا کہ ذکر ہو چکا کہ حادثہ عاشورہ میں تحریف نادان دوستوں کی طرف سے ہی ہوئی ، تو دیکھنا چاہئے کہ ان نادان دوستوں نے کس وجہ سے اس حادثہ میں تحریف کی اور اس کی کیا وجوہات تھیں ؟۔کیا وہ ان تحریفات میں حق بجانب تھے ؟ اعلاوہ ازین ان کے مقابلے میں ہماری کیا مسئولیت ہے ؟ ہم اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریف لفظی اور معنوی دونوں کیلئے ایک ایک مورد پیش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تحریف کرنے والے یہ حضرات ن موارد میں کیا توجیہات پیش کرتے ہیں ؟۔                                                           

ہدف ، وسیلہ کو نیک بنادیتا ہے ۔

بعض لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر ہدف مقدس ہو تو اس تک پہچنے کیلئے جو بھی وسیلہ اپنایا جائے ،جائز ہے '' الغایات تبررالمبادی''اگرچہ اس ہدف تک پہچنے کیلئے حقائق اور سچائی کو مسخ ہی کیوں نہ کرنا پڑے، ان کی نظر میںمہم نتیجہ ہے، متاسفانہ اس خام خیالی کو سامنے رکھ بعض لوگوں نے احادیث پیغمبر  ۖ اور آئمہ کے فرامین میں بھی تحریف اور جھوٹ کھسوٹ شروع کردیا اور جب ان سے پوچھا گیاکہ تم نے یہ کام کیوں کیا تو کہتے ہیں: '' ہم نے یہ کام نیک نیتی سے کیا ۔''  بعض قصہ گو حضرات کے بارے نقل کیا جاتا ہے کہ جب بھی کسی کام کو اچھا سمجھتے اس کیلئے کوئی نہ کوئی حدیث گھڑلیتے ۔ اگرکوئی ان کو کہتاکہ تم رسول خدا  ۖپر جھوٹ باندھ رہے ہو تو کہتے :''ہم پیغمبر کے نفع اور حق میں حدیث گھڑتے ہیں نہ کہ ان کے خلاف اور نقصان میں ؛ اور یہ کام اس لیئے کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے دل نرم ہوں ۔( اخبار وآثار ساختگی ص١٩٨)۔                                                         

عبدللہ نہاوندی نقل کرتاہے کہ میں نے احمد کے غلام سے کہا : من این لک ھذہ الاحادیث التی تحدث بھافی الرقائق؟ فقال وضعناھالنرقق بھاقلوب العامہ ۔ ہم نے یہ احادیث اس لئے وضع کی ہیں تاکہ لوگوں کے دل نرم ہوں ۔ ( درسنامہ وضع حدیث ١۵۵)۔           

 ان کے جواب میں رسول خدا کا یہ قول ہی کافی ہے کہ فرماتے ہیں '' من کذب علی متعمداً فالیتبوا مقعدہ من النار''۔ جو شخص میرے اوپر جھوٹ باندھے اس کا ٹھکانہ جھنم ہے(الوضع فی الحدیثج١ص٣۶٩) اور جناب امیرـ فرماتے ہیں:'' انک لن یتقبل من عملک الامااخلصت فیہ ۔''(میزان الحکمہ٣۴١٠٨) اور قرآن مجید میں آیت شریفہ صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ اسلام میںہر کام قبول نہیں بلکہ '' انما یتقبل اللہ من المتقین '' خدا اس عمل کو قبول کرتا جو کہ تقویٰ کے ساتھ ہو اور جھوٹ گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ اور اسی طرح ہر عمل کے ،خود َحسن اورنیک ہونے کا ساتھ، اس کا انگیزہ بھی حسن ہونا چاہیئے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے ''افمن زین لہ سوء عملہ فرائہ حسنا۔۔۔(علامہ امینیالغدیرج۵ص۴۴۶) بہر حال علماء کرام نے ان لوگوں کے خلاف کتابیں لکھی ہیں اور ان کو جواب دیا ۔ حادثہ کربلا میں بھی ، اس لئے کہ آئمہ کی طرف سے بہت زیاد ہ تر غیب اور تشویق وارد ہوئی کہ اس حادثہ کی یاد کو باقی رکھا جائے۔اور اس کیلئے بہت زیادہ ثواب کاذکر کیا گیا ہے۔ اور بغیر کسی شک وشبہ اس عظیم حادثہ کا احیاء بہت بڑا ثواب ہے (رجوع کریں کامل الزیارات از ابن قولویہ )۔لیکن بعض نادان دوستوں نے اس عظیم ہدف یعنی بقاء عاشورہ حسینی، کیلئے من گھڑت قصے کہانیوں اور روایات کو سہارا لینا شروع کر دیا ۔ اگر آپ مقاتل اور مجالس کی کتابوں کی طرف رجوع کریں تو آپ کو کئی ایسے نمونے نظر آئیں گے کہ جن کا صحیح تاریخ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ہم مقالہ کے حجم کو مدنظر رجھتے ہوئے انہیں ذکر نہیں کرسکتے،                                    

ایک خیال خام کا بطلان

 ممکن ہے کوئی یہاں پر یہ خیال کرے کہ حادثہ کربلا کے بارے ہمارے پاس صحیح تاریخ موجود نہیں لہذا ان جیسی کہانیوں اور ضعیف روایتوں کا سہارا لیا جاتا ہے تاکہ اصل حادثہ کو باقی رکھا جاسکے ۔؟ یہ وہم اور خیال صرف وہ شخص ہی کر سکتا ہے جس نے درحقیقت تاریخ حادثہ کربلا کا مطالعہ نہیں کیا۔ کیونکہ اولاًہمارے پاس یہ واقعہ ہمارے آئمہ کی طرف سے منقول صحیح اور موثق روایتوں سے نقل ہوا ہے آئمہ میں سے ہر امام  ـنے اپنے دور میں اس حادثہ کو لوگوں کے سامنے اصل وقائع کے ساتھ پیش کیا ۔ثانیاً ۔ حادثہ کربلا میں موجود شخصیات کے خطبات ، ان کے میدان میں کہے گئے رزم ۔ثالثاً۔ واقعہ کربلا کے بارے لوگوں کے سوالات کے جوابات کے جو معتبر کتابوں میں موجود ہیں ۔یہ سب  کے سب کاملاً اس واقعہ کی جزئیات کو ہمارے لئے بیان کرتے ہیںاور ہمیں ان تمام من گھڑت داستانوں اور ضعیف روایتوں سے بے نیاز کرتے ہیں ۔ان من گھڑت داستانوں اور روایتوں کا بیان کرنا دشمن کے منہ میں لقمہ دینا ہے کہ اس واقعہ کے بارے کوئی سند معتبر موجود نہیں ؛لہذا بے اساس چیزوں کا سہارا لیا جاتا ہے ۔   روشن فکری یہی ہے کہ ہمیںبجائے من گھڑت داستانوں اور روایتوں کے، ان خطبات کی تحلیل اور صحیح روایتوں کو لوگوں کے درمیان تفسیر وتشریح کے ساتھ پیش کرنا چاہیے نہ کہ بے اساس چیزوں کا سہارا لینا چاہئے۔                                                          

صرف رونا اوررلانا

حادثہ عاشورہ کا باقی رکھنا ،درحقیقت حقیقی اسلام محمدی  ۖ کوباقی رکھنا ہے ؛کیونکہ اسی حادثہ سے ہی تاریخ کے دونوں رخ ایک حقیقت کے متلاشی شخص کیلئے روشن ہوجاتے ہیں اور آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاںہوچکی ہے کہ شیعیت کی بقا کا راز یہی حادثہ کربلا ہے۔ اسی لئے اس حادثہ کو باقی رکھنے کیلئے آئمہ اطہار  نے ایک ذریعہ گریہ اور عزاداری کو بنایا ؛تاکہ لوگ عزاداری مناکر تمام لوگوں کو اس واقعہ کی یاد دلائیں۔ عزاداری اور گریہ وبکاء کے متعلق ہماری معتبر کتابیں احادیث آئمہ اطہار  سے چھلک رہی ہیں ۔جیسے ''من بکی علیٰ الحسین وجبت لہ الجنة'' اگر کوئی شخص امام حسین ـپر گریہ کرے س کیلئے جنت واجب ہے اور اس طرح کی کئی احادیث معتبر اسناد سے نقل ہوئی ؛ہم اختصار کی وجہ سے ان کو نقل نہیں کرسکتے ۔مشتاقین حضرات لولوومرجان ص۴الی٨اور بحارالانوارج۴، کامل الزیارات،نفس المھموم وغیرہ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔ یہاں پر جو تحریف نادان دوستوں کی طرف سے وارد ہوئی وہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ عاشورہ اور یہ حماسہ حسینی  ـصرف گریہ اور بکاء کیلئے ہے اور اس سے مقصود صر ف رلانااور گریہ کرناہے لہذاجو حدیث اور واقعہ کہ جس قدر بھی معتبر اورصحیح ہو لیکن رونے رلانے کا موجب نہ بن سکے ، کوئی قیمت نہیں رکھتابلکہ ایسی کتابوں اور روایتوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے جو رونے اور رلانے میں کارساز ہوں ،اگرچہ سند کے اعتبار سے قابل وثوق ہوں یا نہ ہوں ، حتی بناوٹی ہی کیوں نہ ہوں ، کیونکہ مہم رونااوررلاناہے ۔ اور یہ تحریف انتہائی خطرناک ہے ، کیونکہ درواقع اس سے مراد یہ ہے کہ امام حسین ـصرف اسلئے شہید ہوئے کہ ہم ان پر گریہ کرکے اپنے تمام گناہ بخشوالیں ۔ان لوگوں کی دلیل وہ روایات ہیں جو گریہ اور زیارات کے بارے وارد ہوئی ہیں ۔ کہ جن کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا تحریف کا جواب بالکل واضح ہے کیونکہ اولاً۔ امام حسین ـنے خود ہی اپنا مقصد بتادیا کہ میرا شہید ہونا کس لئے ہے، فرماتے ہیں:۔۔۔ انی لم اخرج اشراً ولا باطراًولا مفسداً ولاظالماً انماخرجت لطلب الصلاح الخ (مقتل الحسین ص١۵۶)۔           

ثانیاً۔ اگرصرف گریہ کرنے سے  ہی جنت واجب ہوتی ہو تو امام حسین ـکے قاتلین بھی آپ اور آپ کے خانوادوں کی مظلومیت پر گریہ کرتے تھے ؛چنانچہ نقل کیا گیا ہے کہ جب ایک ظالم حضرت فاطمہ کے گوشوارے اتاررہا تھا تو گریہ بھی کررہا تھا ۔جناب فاطمہ اس سے پوچھتی ہیں گوشوا رے بھی اتارتا ہے اور گریہ بھی کرتا ہے؟ تو یہ کہتا ہے کیسے گریہ نہ کروں درحالانکہ جانتا ہوں آل رسول کو لوٹ رہا ہوں اور لوٹتا اس لئے ہوں کہ اگر میں نہ لوٹوں تو کوئی دوسرا لوٹ کر لے جائے گا ۔( مثیرالاحزان ص۴٠، مقتل مقرم ٢٧٨)۔                                   

ثالثاً ۔گریہ کے متعلق وارد شدہ احادیث دوقسم کی ہیں:  ١۔روایات مطلقہ کہ جو بھی امام حسینـ پر گریہ کرے اس کیلئے جنت واجب ہے ۔٢۔ دوسری قسم ان احادیث کی ہے جو ''عارفاً بحقہ ''کی قید کے ساتھ ہیں جیسے : ''من بکیٰ علیٰ الحسین عارفاً بحقہ وجبت لہ الجنہ ''۔ (بحارج٣٩٣۴ اور اس کے علاوہ ج١٠٠ص١٨۴،٢۵٧،٢٩٣،٣٠۶و۔۔ مستدرک الوسائل ج١٠ص٢٣٣، ٢۵٠،۔٢٩٨، ثواب الاعمالص٣١٧۔٣١٩ کی طرف رجوع کریں ) اور علم اصول میں یہ کاملاً ثابت ہوچکا ہے کہ حدیث مطلق کو مقید پر حمل کرکے اسی مقید پر ہی حکم لگایا جاتاہے ۔ یعنی ان تمام احادیث سے مراد یہ کہ جب گریہ ''عارفابحقہ'' ہوتوثواب مذکور ملے گا ۔ اسی طرح بعض احادیث گریہ کے آخر میں یہ قید ذکرہوئی ہے کہ'' ۔۔۔اگر اس مجلس میں ہمارے حق کو زندہ کیا جائے ۔جیسے وہ حدیث جو امام رضا علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ( رجوع کریںحول البکاء علیٰ الامام حسینص١١١ بنقل از عیون اخبارالرضا)۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ صرف رونے اور رلانے کو (بغیر معرفت حق ولایت اور اس کا خیال رکھے ِ)شہادت امام حسین ـکا ہدف قرار دینا اور اسی پر اپنے گناہوں کو بخشوانا ہدف امام حسین ـمیں ایک بڑی اور خظرناک تحریف ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس تحریف  سے تمام شیعیان اہل بیت بلکہ تمام مسلمانوں کو آگاہ کرناہمارے لئے ضروری ہے ۔ دعا ہے کہ خداوند عالم ہمیں صحیح معنی میں عزادار حسینی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔                                                

/ 0 نظر / 10 بازدید