دفاع اوردہشت گردی

دھشت گردی اور دفاع

مذھب اھلبیت :کی روشنی میں (قسط ۱)

رجب علی مصطفوی

تمھید

 موجودہ صدی کے ان آخری دس ،گیارہ سالوں میں" دھشت گردی کے خلاف جنگ اور مقابلہ"  کے متعلق مختلف قسم کی گفتگو اور بات چیت بہت زیاد سنائی دیتی ہے خصوصا گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ ء میں امریکہ کے اہم تجارتی مرکز "ورلڈ ٹریڈ سنٹر "پر حملہ کے بعد "دھشت گردی کے خلاف جنگ"  جیسے الفاظ مختلف کتابوں ، تقاریر ، اجتماعات ، اخبارات ۔ اور ریڈیو وٹیلی ویژن  میں بہت زیادہ دیکھے اور سنائی دیتے ہیں اور اس کے متعلق بہت سارے انسیٹیوٹ اور ملکی ،صوبائی اور علاقائی سطح پر بہت سارے ادارے وجود میں آئے ہیں تاکہ دھشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔اسی طرح مختلف مصنفین،مولفین ومفکرین اور مختلف ملکوں کے زعماء وراھمناوں کی جانب دھشت گردی کے خلاف جنگ کی آوازیں آنے لگیں اورلٹریچر شائع ہونے لگاہے۔دنیا خصوصا مشرق وسطیٰ اورجنوبیzdc   XFCTH  ایشیاءکی مختلف جماعتوں اورگروہوں کے متعلق دھشت گرد ہونے کی آوازیں آسمان تک جاپہنچیں حتی کہ بعض ممالک کے بارے  اتھامات سامنے آنے لگے کہ یہ دھشت گرد ہیں یا دھشت گردوں کو پناہ دینے والے ہیں۔ اور بجائے اس کے کہ دھشت گردی کی متفق علیہ تعریف اور معیار پیش کرتے  اور اس تعریف ومعیار کے مطابق کسی گروہ جماعت یاملک کو متفقہ علیہ طورپر دھشت گرد قرار دیتے؛بعض ممالک نے دھشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کا کردیااور اس جنگ میں مختلف ممالک  کواپنا حلیف بنانا شروع کردیااور اپنے دفاع کرنے والی بعض جماعتوں اور ممالک کو دھشت گرد قراردیا۔

دوسری طرف اسی صدی میں دور ونزدیک کے عرصہ میں،ھم بہت سارے اسلامی ممالک میں دیکھتے ہیں کہ اسلامی بیداری کی صورتحال ہے اورمختلف گروہ اور جماعتیں اپنے  دفاع اور اپنے اصلی حقوق حاصل کرنے کے لئے اٹھے ہیں کہ جن میں سے بعض اس میں کامیاب ہوچکے اور دوسرے اس کوشش میں ہیں ؛جیسے اسلامی جمہوریہ ایران کہ جس نے نظام پہلوی کا خاتمہ کرکے رکھ دیا اسی طرح اسی اسلامی انقلاب سے الہام لیتے ہوئے ماضی قریب سے مصر، ، تیونس ، لیبیا، الجزائر، یمن ،نیز فلسطین ، لبنان اور دوسرے اسلامی ممالک  میں اسلامی تنظیم نے اپنے قانونی اور شرعی حقوق کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد تیز کردی ہے؛کہ  تیزرفتارمیڈیا کے اس دور میں ھر شخص ان کی صورتحال سے آگاہ ہے۔لذا اس بات کی ضرورت ہے کہ جھاد دفاع اور دھشت گردی جیسے مفاھیم کی کاملا وضاحت کی جائے تاکہ اس پر اسلامی حکم لگایا جائے۔اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تحقیق انجام پائی ہے ۔ یہ مقالہ ایک مقدمہ ، چند فصلوں اور ایک کاخاتمہ پر مشتمل ہے۔

مقدمہ میں اس موضوع کو اختیار کرنے،اس تحقیق کی اھمیت وضرورت ، تحقیق کے اھداف ، طریقہ کار،مفروضات اور اس موضوع پر سابقہ تحقیقات کی طرف اشارہ کیاگیاہے ۔اسی طرح فصول اور خاتمہ میں ذکر شدہ ابحاث کو ان فصول اور خاتمہ کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ ذکرکریں گے۔ابتداء میں مقدمہ میں ذکرشدہ مندرجات کاذکرکرتےہیں۔

مقدمہ

الف۔   یہ موضوع کیوں اختیارکیا؟

 اس موضوع کو اختیار کرنے کے اہم اسباب درج ذیل ہیں:

1.دورحاضر میں دھشت گردی انتہائی اہم مسائل میں سے ایک سمجھا جاتاہے کہ تمام امت اسلامی بلکہ بشریت کے لئے خطرہ ہے  بلکہ  اسی مسالہ کوبنیاد اور بہانہ بناکرفرداورمعاشرہ کی تقدیروں سے کھیلا جارہا ہے۔

 2. بہت سے ممالک "دھشت گردی" اور "دھشت گردی سے جنگ" کو اپنے مخصوص مصالح کے لئے ،اپنا وظیفہ بنا چکے ہیں؛ یہ ممالک  اس مسالہ کودوسرے ممالک پر   اپنا قبضہ جمانے اور ان میں اپنی استعماری سیاست چمکانے کا ایک    اہم ذریعہ بنا چکے ہیں۔

3. بعض بڑے ممالک دھشت گردی  اور دفاع شرعی کے درمیان فرق کے قائل نہیں؛ لہذا اسلام کو بھی متھم کرنے لگے ہیں کہ یہ ایک "دھشت گرد دین " ہے یا دھشت گردی کا سبق دیتا ہے یا دھشت گردی کو پسند کرتاہے۔یہ دفاع کو دھشت گردی سے تعبیر کرتے ہیں اور دھشت گردی کو دفاع کا نام دیتے ہیں۔

۔4. جوان نسل  بالعموم اور شیعہ جوان نسل   اپنے اپنے علاقوں میں دھشت گردی کی لعنت موجود ہونے کی وجہ سے بلکہ ایک جنگی کیفیت طاری ہونے کی وجہ سے بالخصوص   دھشت گردی  اور اس کے اور اسلامی دفاع کے متعلق، اسلام خصوصا مذھب امامیہ کا نظریہ پوچھتے ہیں کہ ان میں فرق کا معیار اور ضابطہ کیاہے؟

ب۔ تحقیق کی اہمیت وضرورت

 دھشت گردی کا مسئلہ دنیا میں خصوصا دور حاضر میں ایک اہم مسئلہ رہا ہے اور یہ پوری انسانیت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اس کی مختلف قسمیں ہیں جیسے حکومتی دھشت گردی ،شخصی  اور گروہی دھشت گردی اور اسی طرح اس کے بہت سارے اسباب وعلل ہیں جیسے سیاسی اسباب ، اجتماعی اسباب ، دینی ومذھبی اسباب و۔۔۔۔ اورہر ایک نے اپنے مصالح کی بناکر اس کی مختلف تعریف ذکر کی ہے نیز استعماری ممالک نے دھشت گردی کے نام سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایاہے اور اس سے مقابلے کے نام پر دوسرے ممالک پر قبضہ کیاہے ۔اور جیسا کہ ذکر ہوا ہے انہوں نے دین اسلام کو دھشت گردی کا الزام دیا ہے؛ اسی طرح بعض جماعتوں اور گروہوں نے دفاع شرعی کے نام سے  اپنے  مصالح کے لئے فائدہ اٹھایا ہے ؛درحالانکہ ان کا دفاع اسلامی سے کو ئی تعلق نہیں ، یہ جماعتیں اور گروہ جوانوں  کو دفاع اسلامی کے نام سے جذب کرتے ہیں ؛ان کے برین واش کرتے ہیں اور پھر انہیں بمبار  اور خودکش بناکر بے گناہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کا قتل عام کرتے ہیں ؛ یہ سب کچھ    اسلام اور جھاد اسلامی کے نام پر ہوتاہے؛لہذا ان دونوں مسئلوں ( دھشت گردی اور دفاع شرعی اسلامی )کے بارے تحقیق ایک ضروری  اورلازمی  امرہے۔

ج۔  تحقیق کے اھداف

 اس تحقیق کے اھداف  میں سے چند درج ذیل ہیں:

 1. دھشت گردی اور دفاع اسلامی کے بارے گفتگو کرنے والی آیات کریمہ کاعمیق مطالعہ ۔

2. دھشت گردی اور دفاع اسلامی کے بارے گفتگو کرنے والی سنت شریفہ  کاعمیق مطالعہ۔

 3. دھشت گردی اور دفاع اسلامی کے بارے فقھاء امامیہ کے آراء کا باریک بینی سے مطالعہ۔

4. دونوں مسئلوں کے اسباب وعلل کابیان۔

5. دھشت گردی اور دفاع شرعی کی جامع اور صحیح تعریف کہ جس کو اسلامی تعریف کہا جاسکے۔یاکم ازکم اسلامی دانشور اس کو قبول کرتے ہوں۔اور اس کےایک خاص معیارکی تلاش۔

د۔  تحقیق کا طریقہ کار

جیسا کہ ہر تحقیق ایک خاص سوال سے شروع ہوتی ہیں، یہ تحقیق بھی ایک سوال اصلی اور چند فرعی سوالوں کے گرد گھومتی ہے ۔ اس تحقیق کا سوال اصلی ،کہ اس تحقیق میں اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ ہے:

"مذھب اھل بیت کی روشنی میں دھشت گردی اوردفاع کے درمیان کیا فرق ہے؟"

اور اس تحقیق کے فرعی سوالات یہ ہیں:

1. دھشت گردی کے اسباب وعلل کون  کونسے ہیں؟

2. دفاع شرعی کے اسباب وعلل کیاہیں؟

3. دھشت گردی اور دفاع شرعی کے بارے کتاب عزیز کا کیا نظریہ ہے ؟

4. دھشت گردی اور دفاع شرعی کے بارے سنت شریفہ کا کیا نظریہ ہے ؟

5. دونوں مسئلوں کے بارے فقھاء امامیہ کا کیا نظریہ؟

متذکرہ بالا فرعی سوالات کی بنیاد پر اس تحقیق کو ہم نے چار فصلوں میں مرتب کیاہے بالترتیب ہر فصل میں اس فصل کے سوال کے جواب کے بارے بحث کی جائے گی۔

ھ۔    تحقیق کے مفروضے

اس تحقیق میں ہم درج ذیل مفروضے پیش کرتے ہیں  کہ جن کو اس تحقیق میں ادلہ سے اثبات کرنے کی کوشش کی گئی ہے:

1. مذھب امامیہ میں دھشت گردی ایک واضح وآشکار جرم ہے کہ جس کا فاعل سزا کا مستحق ہے ۔

 2. مذھب امامی میں دفاع شرعی اسلامی ایک اچھا اور مطلوب امر ہے کہ جسے اسلام کبھی تو جائز اور کبھ واجب قراردیتاہے اور ہرمقام پر اس کی  شرائط کو بھی بیان کیاہے ۔

و۔  موضوع پر سابقہ تحقیقات

مسٗلہ دھشت گردی کے بارے مختلف زبانوں میں کافی کتابیں تحریر کی گئیں ہیں لیکن  چونکہ میں ایک اسلامی اور دینی علوم کاطالب علم ہوں اورمیرا تعلق عربی اور فارسی کتابوں سے زیادہ رہاہے لہذا اس موضوع پر سابقہ تحقیات میں سے یہ چند کتابیں بھی انہیں زبانوں (عربی،فارسی)سے ذکرکررہاہوں  جیسے الإرهاب عبر التاریخ مصنف محمد محمود المندلاوی.  الإرهاب والعنف السیاسی مولف عز الدین أحمد جلال. الإرهاب والعنف السیاسی.الإرهاب صناعۃغیر إسلامیۃ۔مصنف ڈاکٹر نبیل لوقابباوی، الإرهاب الدولی والنظام العالمی الراهن  مصنف أمل یازجی ومحمد عزیز شکری. وغیرہ کہ جن میں دھشت گردی کے مختلف جوانب پر بحث کی گیئ ہے ؛لیکن یہ تمام کتابیں عمومی ہیں اور اسلام کے نظریہ کو بیان نہیں کرتی؛ اسی طرح  ہمیں کوئی ایسی کتاب نہیں ملی کہ جو مذھب امامیہ کے نظریہ کو ان دونوں مسئلوں کے بارے کاملابیان کرے اگرچہ  فقہ بعض بحثیں" کتاب الجھاد" کے ضمن میں ذکر کی گئیں ہیں لیکن ان میں تفاصیل اور جزوی ؛بلکہ بعض اوقات اساسی مسائل کو بھی نظر انداز کیاگیاہے لہذا ایک ایسی جامع تحقیق کی ضرورت تھی کہ جو ان دونوں مسئلوں کو تمام جوانب سے ذکر کرے اور ان  کے درمیاں فرق کو واضح کرتے ہوئے تاحد وسعت " مذھب امامیہ" کی نظر کو پیش کرے ؛لہذاھم نے اس موضوع پر قلم فرسائی کی کوشش کی ہے۔تاکہ حداقل  یہ تحقیق  بعد والی تحقیقات کے لئے مقدمہ  اورمواد اولیہ بنے اور محقیقین اس کے بارے مختلف مختلف جوانب سے  بحث کریں۔

پہلی فصل

یہ فصل حقیقت میں بعد والی فصول کے لئے مقدمۃ کی حیثیت رکھتی ہے اور ھم اس فصل کے نتائج سے آنے والی فصلوں میں فائدہ اٹھائیں گے ۔ اس فصل میں ھم تین مباحث ذکر کریں گے پہلی مبحث میں معتمد اور موثق علماء اور کتابوں  سےدھشت گردی کی لغوی   اور اصطلاحی تعریف ذکر کریں اور ان پر موجود اشکالات کا جائزہ  لیں گے اور پھر ایک مناسب تعریف ذکرکریں گےنیز دھشت گردی کی قسمیں بھی ذکر کریں گے۔دوسری مبحث میں دفاع یا مقاومت کے بارے بحث کریں گے اور اس کی لغوی اوراصطلاحی تعریف اور اس کے مترادف کلمات کا ذکر اور ان کی تعریف بیان کریں گےجبکہ تیسری مبحث میں مذھب اھل بیت کے مفھوم کے بارے اشارہ کریں اور اس کی اصطلاحی تعریف پیش کریں گے۔اور آئندہ فصل کے لئے نتائج ذکر کریں گے۔ إن شاء الله تعالى.

مبحث اول ۔ دھشت گردی اور اس کی اقسام

الف۔   دھشت گردی کالغوی معنیٰ۔

دہشت کے معنیٰ ڈر، خوف اور خطرہ کے ہیں اور اسی طرح دہشت گردی کامعنیٰ ہے "خوف وھراس پھیلانا"[1] انگریزی زبان میں اس کے لئے لفظ terror استعمال ہوتاہے چنانچہ انگریزی عربی ڈکشنری "المورد"میں لکھاہے:" أن کلمۃterror تعنی: "رعب، ذُعر، هول، کل ما یوقع الرعب فی النفوس، إرهاب، والاسم terrorism یعنی: >إرهاب، ذعر ناشئ عن الإرهاب<، و terrorist تعنی: (الإرهابی)، والفعل terrorize یعنی: >یُرهب، یُروِّع، یُکرهه (على أمر) بالإرهاب<.[2]

Terrorیعنی رعب ، دھشت خوف اور ہر وہ چیز جو دلوں خوف ڈالے اور terrorism کامعنیٰ دہشت گردی ہے اور terrorist یعنی دہشت گرد۔

" Oxford Dictionary " (اکسفورڈ ڈکشنری )میں ذکرہواہے کہ Terrorist ۔وہ شخص ہے تشددکو اپنے سیاسی اھداف کے لئے استعمال کرتاہے اور Terrorism یعنی دھشت گردی.[3]

عربی زبان میں دہشت گردی کے لئے لفظ" ارھاب " استعمال ہوتا ہے اور دہشت گرد کو"  ارھابی " کہاجاتاہے کہ جوکہ رھبۃ ، رھبیٰ اور رھباء سے نکلا ہے چنانچہ اس کی تفصیل میں ابن منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں :" تشتق کلمة >إرهاب> من > الفعل المزید (أرهب) ؛ ویقال أرهب فلانا: أی خوَّفه وفزَّعه، وهو المعنى نفسه الذی یدل علیه الفعل المضعّف (رَهّبَ). أمّا الفعل المجرد من المادة نفسها وهو (رَهِبَ)، یَرْهبُ رَهْبَةً ورَهْبًا، ورَهَبًا، فیعنی: خاف، فیقال: رَهِبَ الشیء رهباً ورهبةً: أی خافه. والرهبۃ: الخوف والفزع. أمّا الفعل المزید بالتاء وهو (تَرَهَّبَ) فیعنی انقطع للعبادۃفی صومعته، ویشتق منه الراهب والراهبۃ والرهبنۃ والرهبانیۃ... إلخ، وکذلک یستعمل الفعل ترَهَّبَ بمعنى توعد إذا کان متعدیاً، فیقال ترهب فلاناً: أی توعّده. وأرهَبَه ورهَّبَه واستَرْهَبَه: أخافَه وفزَّعه. وتَرَهَّب الرجل: إذا صار راهبًا یخشى الله. والراهب: المُتَعَبِّد فی الصومعۃ".[4]

 مذکورہ عبارت کامفھوم یہ ہے کہ لفظ ارھاب (دہشت گردی) ارھب سے مشتق ہے کہا جاتاہے ارھب فلانا یعنی فلان کو ڈرا دھمکایا، اسی معنیٰ پر رھّب کا فعل بھی دلالت کرتا ہے اسی طرح رَھِبَ کا معنیٰ وہ ڈرا یا اس نے خوف کھایا اور الرھبۃ کا معنیٰ ڈرنا اور ترھَّب کامعنی یہ کہ وہ اللہ کی عبادت کے لئے تمام دوسرے لوگوں سے کٹ گیااور اسی لئے لفظ راھب استعمال کیاجاتاہے ۔

اور الفاظ قرآنی پر ریسرچ کرنے والے محقق حسن مصطفوی اپنی کتاب" التحقیق فی کلمات القرآن الکریم" میں لکھتے ہیں:"‏ بأنّ>الأصل الواحد فی هذه المادۃ: هو الخوف المستمرّ المستدیم، کما سبق فی مادۃ الخوف، وقلنا إنّ الخوف ضدّ الأمن، والرهب ضدّ الرغبۃ، والانس ضدّ الوحشۃ...[5]

اس مادہ میں بنیاد اصل خوف مستمرہے یعنی ہمیشہ خوف کی حالت میں رہنا جیسا کہ خوف کے معنیٰ میں گذرا ہے کہ خوف،امن کی ضد، الرھب ،رغبت کی ضد اور انس ،وحشت کی ضد ہے ۔

المعجم الوسیط کی عبارت ہے: " الإرهابیون وصف یطلق على الذین یسلکون سبیل العنف والإرهاب لتحقیق أهدافهم السیاسیۃ".[6]

یعنی ارھابیون صفت ہے کہ جس کا استعمال ان لوگوں پر ہوتاہے جو اپنے سیاسی اھداف کے لئے تشدد اور ڈرانے دھمکانے کاراستہ اپناتے ہیں۔

 اور المنجد میں ذکرہواہے: "الإرهابی من یلجأ إلى الإرهاب لإقامۃ سلطته، ".[7]

یعنی ارھابی سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی حکومت وسلطنت کے قیام کے لئے ڈرانے دھمکانے کی مدد لیتاہے۔

لغت متذکرہ بالا کتابوں میں سے اکسفورڈ ڈکشنری، المعجم  اور المنجد نے تقریبا اصلاحی تعریف ذکر کی ہے کہ جن میں   دھشت گردی کی علت  سیاسی مقاصد (لتحقیق أهدافهم السیاسیۃ، لإقامۃ سلطته)بیان کی گئی ۔

  ب۔ دہشت گردی کی اصطلاحی تعریف ۔

دہشتگردی کی کوئی ایسی تعریف کرنا کہ جوہرلحاظ سے مکمل اور ہرموقع پرسوفیصد اتفاق راۓ سے لاگو کی جاسکے ،اگر ناممکن نہیں تو کم ازکم ناممکن کی سرحد پرضرورہے۔  ھم ذیل میں محققین کی عبارت کونقل کرتے ہیں۔

آزاد دائرۃ المعارف " وکیپیڈیا " میں اس طرح ذکر ہواہےکہ اگرہرقسم کے پس منظر اوراس معاشرے کے حالات کویکسر نظر انداز کردیا جاۓ توپھراس لفظ کی لـغـوی تـشریـح یوں ہو سکتی ہے:

" خوف اور ہراس پیدا کرکے اپنے مقاصدکے حصول کی خاطر ایسے نپے تلے طریقہ کاریاحکمت عملی اختیارکرنا کہ جس سے قصورواراوربے قصورکی تمیزکے بغیر،(عام شہریوں سمیت) ہرممکنہ ھدف کوملوث کرتے ہوۓ،وسیع پیمانے پر دہشت وتکلیف اوررعب واضطراب (جسمانی نہ سہی نفسیاتی(پھیلایا جاۓ "۔[8]

اس تعریف میں "مقاصد" کو مطلق ذکر کیاگیاہے اور جائز اور ناجائز کی قید ذکر نہیں کی گئی ۔سوال یہ کہ کہ اگر کوئی اپنے قانونی اور اپنے دین یامذہب کے مطابق صحیح اور شرعی مقاصد کے حصول کے لئے یہ کام انجام دیتاہے توکیااس پر بھی یہ تعریف منطبق ہوتی ہے؟ اس کی وضاحت اس تعریف میں ذکر نہیں کی گئی اگرچہ آگے " قصورواراور بے قصور کی تمیز کئے بغیر" کی قید ذکر کی گئی ہے لیکن مطلب پھر بھی واضح نہیں ہوسکتا۔

اسیطرح "Bryn Mawr College  " کے نفسیات کے پروفیسر کلارک آر میکاولی نے اپنے مضمون میں اس کی تعریف و توصیح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے لکھا ہے : " عموماً دہشت گردی کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ کسی سیاسی یا ذاتی مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال یا استعمار کی دھمکی ایک بڑے گروپ کے خلاف چھوٹے گروپ کی جانب سے ہو تو دہشت گردی کہلاتی ہے۔ اس میں چھوٹے گروپ کے لوگ بڑے گروپ کے غیر مسلح افراد کو نشانہ بناتے ہیں"۔[9]

پروفیسر موصوف نے دہشت گردی کی تعریف واضح کرتے ہو ئے صرف امریکی، یہودی مفادات کو پیش نظر رکھا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی ایسی تعریف وضع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے جس کا اطلاق وسیع پیمانے پر کیا جاسکے مگر افسوس ماہرین نفسیات بھی خود کو سیاسی و معاشی مفادات سے بلند نہیں کر پاتے۔

ڈاکٹرطاہر القادری اپنی کتاب   "   دھشت گردی اور فتنہ خوارج  "   میں دہشت گردی کی تعریف کے بارے نقل کرتے ہیں " رابطہ عالم اسلامی کا سولہواں سیشن مکہ مکرمہ میں خادم الحرمین الشریفین ملک فہد بن عبدالعزیز آلِ سعود کی نگرانی میں (21 تا 26 شوال 1422ھ بمطابق 5 تا 10 جنوری 2002ء) اسلامی فقہی اکیڈمی میں منعقد ہوا۔ اس سیشن کے بعد دہشت گردی کے حوالے سے بیان مکہ (Makka Decralation) کے نام سے جو اعلامیہ صادر ہوا اس میں دہشت گردی کی تعریف اس طرح کی گئی ہے :" الإرهاب : هو العدوان الذی یمارسه أفراد أو جماعات أو دول بغیًا علی الإنسان : دینه، ودمه، وعقله، ماله، وعرضه. ویشمل صنوف التخویف والأذی والتهدید والقتل بغیر حق وما یتصل بصور الحرابۃوإخافۃ السبیل وقطع الطریق، وکل فعل من أفعال العنف أو التهدید، یقع تنفیذًا لمشروع إجرامی فردی أو جماعی، ویهدف إلی إلقاء الرعب بین الناس، أو ترویعهم بإیذائهم، أو تعریض حیاتهم أو حریتهم أو أمنهم أو أحوالهم للخطر، ومن صنوفه إلحاق الضرر بالبییۃ أو بأحد المرافق والأملاک العامۃ أو الخاصۃ، أو تعریض أحد الموارد الوطنیۃ، أو الطبیعیۃ للخطر، فکل هذا من صور الفساد فی الأرض التی نهی اﷲ سبحانه وتعالی المسلمین عنها : ﴿وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اﷲَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْن﴾۔[10] وقد شرع اﷲ الجزاء الرادع للإرهاب والعدوان والفساد، وعده محاربة اﷲ ورسوله صلی الله علیه وآله وسلم : ﴿اِنَّمَا جَزٰؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اﷲَ وَرَسُوْلَه وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْیُصَلَّبُوْا اَوْتُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْامِنَ الاَرْضِط ذٰلِکَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴾[11]. ولا توجد فی أی قانون بشری عقوبۃ بهذه الشدة نظرًا لخطورة هذا الاعتداء، الذی یعد فی الشریعۃ الإسلامیۃ حربًا ضد حدود اﷲ، وضد خلقه. ویؤکد المجمع أن من أنواع الإرهاب : إرهاب الدولۃ، ومن أوضح صوره وأشدها شناعۃ الإرهاب الذی یمارسه الیهود فی فلسطین، وما مارسه الصرب فی کل من البوسنة والهرسک وکوسوفا، ورأی المجمع أن هذا النوع من الإرهاب من أشد أنواعه خطرًا علی الأمن والسلام فی العالم، وعد مواجهته من قبیل الدفاع عن النفس، والجهاد فی سبیل اﷲ."

ترجمہ ۔"دہشت گردی سے مراد وہ سرکشی ہے جس کا ارتکاب مخصوص افراد، جماعتیں یا ملک دوسرے انسانوں کے دین، خون، عقل، مال اور عزت کی پامالی کے ذریعے کرتے ہیں۔ اس ظلم اور حقوق کی پامالی میں ایذاء رسانی، خوف و ہراس پیدا کرنا اور ناحق قتل کرنا شامل ہے۔ اسی طرح گروہوں کی شکل میں لوٹ مار، خون خرابہ اور شاہراہوں پر قبضہ کر کے لوگوں کو ہراساں کرنا بھی اسی نوعیت کے جرائم ہیں۔ دشمنی یا زیادتی خواہ کسی فرد کی طرف سے ہو یا جماعت کی طرف سے اس کا مقصد لوگوں کے دلوں میں رعب ڈالنا ہو یا انہیں ایذاء رسانی کے ذریعے ڈرانا دھمکانا یا ان کی زندگی، آزادی، امن یا اَحوال کو خطرات میں جھونکنا ہو۔ دہشت گردی کی جملہ اقسام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ معاشرہ یا فرد کو نقصان پہنچایا جائے، املاک اور ضرورت کی اشیاء تلف کی جائیں یا ملکی وسائل میں سے کسی چیز کو خطرات میں جھونکا جائے۔ یہ ساری فساد فی الارض کی صورتیں ہیں جس سے اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے اس ارشادِ گرامی (اور ملک میں فساد انگیزی (کی راہیں) تلاش نہ کرو، بے شک اﷲ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) کے ذریعے منع فرمایا ہے۔’’اﷲ تعالیٰ نے دہشت گردی، عداوت اور فساد کے لئے سخت سزا مقرر فرمائی ہے اور اِسے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دشمنی گردانا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : (بے شک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز راہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا پھانسی دیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے۔’’اس سرکشی پر۔ جس کو بہت بڑا خطرہ ہونے کے پیشِ نظر شریعتِ اسلامیہ میں اﷲ تعالیٰ کی حدود اور اس کی مخلوق کے خلاف جنگ شمار کیا جاتا ہے۔ جو سخت سزا رکھی گئی ہے، اس طرح کی سخت سزا کسی انسانی قانون میں نہیں پائی جاتی۔ ہمارے ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلاشبہ دہشت گردی کی اقسام میں سے بڑی قسم ملکی دہشت گردی ہے لیکن سب سے واضح اور بد ترین دہشت گردی وہ ہے جو یہودی فلسطین میں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ جو سرب باشندے بوسنیا اور کوسووا میں کر رہے ہیں۔ اس سربراہی کانفرنس کی رائے میں اس قسم کی دہشت گردی دنیا کے امن اور سلامتی کے ئے سب سے بڑا خطرہ ہے، اور اس کا سامنا کرنے کو ہمارے ادارے نے جان کے دفاع اور جہاد فی سبیل اﷲ کے قبیل سے شمار کیا ہے۔‘‘[12]

معروف تجزیہ نگار جناب عالم نقوی ،دھشت گردی کے معنی ومفھوم کے بارے میں تحریر کرتے ہیں: " دہشت گردی'کو ہندی میں آتنک واد انگریزی میں Terrorismاور عربی میں ' ارہاب ' کہتے ہیں۔ جدید دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی شاید یہ ایسی واحد اصطلاح ہے جس کی کوئی ایک متعین تعریف Deffinitionنہیں۔ بہت زیادہ کوشش کے باوجود اقوام متحدہ ،اس کی سلامتی کونسل اور اس کی جنرل اسمبلی ابھی تک اس کی کسی ایک جامع اور پوری دنیا کے لئے قابل قبول ' تعریف ' پر متفق نہیں ہوسکے ہیں۔"

وہ لکھتے ہیں کہ مختلف ملکوں کے سرکاری دستاویزات ' لغات اور پالیسی بیانات وغیرہ میں اس اصطلاح کے جو معنی ملتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ دہشت گردی وہ عمل ہے جو لوگوں کے دلوں میں عدم تحفظ اور خوف کا احساس پیدا کرتا ہے۔

۲۔ تشدد کے نتیجے میں عوام کے دلوں میں خوف کا جاگزیں ہوجانا دہشت گردی ہے۔

۳۔ مختلف مفادات کے حصول کے لئے جان بوجھ کر منظم ذرائع سے عوام کو خوفزدہ کرنے کو دہشت گردی کہتے ہیں۔

۴۔ ہولناک اور بہیمانہ تشدد کا عمل دہشت گردی ہے۔

۵۔ انسانی وقار اور سماجی اقدار کی نفی کرنے والا عمل دہشت گردی کہلاتا ہے۔

 درج بالا سبھی پانچوں تعریفات( Deffinition) کا تجزیہ کرتے ہو ئے وہ تحریر کرتے ہیں :

" ان تعریفوں میں نہ صرف یہ کہ مختلف اندازسے ایک ہی بات کی تکرارہے بلکہ کوئی بھی تعریف Deffinition دہشت گردی کے تصور کی جامع اور کامل تفہیم و تعبیر کرنے سے قاصر ہے۔ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہر ملک اور ہر گروہ کو دہشت گردی کی معین اور سب کے لئے قابل قبول تعریف کے بجائے صرف اپنے مفادات کا تحفظ عزیز ہے۔ اور اس طرح فی الواقع ہوتا یہ ہے کہ کچھ افراد یا ان کا کوئی گروہ ایک کام کرتا ہے اور اسے ' دہشت گردی ' کہا جاتا ہے لیکن دوسرا جب وہی کام کرتا ہے اور پہلے سے زیادہ بربریت و بہیمت کے ساتھ کرتا ہے تو اسے ' دہشت گردی ' نہیں قرار دیا جاتا۔ فلسطین اس کی سب سے نمایاں اور پرانی مثال ہے۔ ساٹھ سال سے صہیونی گروہ فلسطینیوں کے ساتھ انتہا درجے کا بہیمانہ و سفاکانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہیں جس میں قتل عام ' نسلی صفایا ' گھروں اور املاک کی تباہی کے بعد جبری ملک بدری سب شامل ہیں لیکن اسرائیل امریکہ یورپ اور صہیونیت کے حلیف اسے ذاتی دفاع Self Deffenceاور ملکی دفاع قرار دیتے ہیں اور جب فلسطین کے مستضعفین چاروناچار پتھروں سے اس کا جواب دیتے ہیں تو اسے ہم آواز ہوکر ' دہشت گردی ' قرار دے دیا جاتا ہے۔ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس فوجیوں مارٹروں ' بلڈوزروں اور ٹینکوں کے مقابلے میں پتھر چلانا ' صہیونی دنیا کے نزدیک ' دہشت گردی ' ہے۔ حالانکہ کسی حقیقت( Reality) کی تعریفDeffinition اسی وقت صحیح اور جامع کہی جاسکتی ہے جب وہ نہ صرف یہ کہ سچائی TRUTHکی مظہر ہو بلکہ جغرافیائی حد بندیوں اور ہر طرح کے اختلافات سے بھی ماورا ہو۔ لیکن اب تو دہشت گردی کے نام پر بین الاقوامی انحراف ' کج فکری اور PERVERSIONیعنی ضلالت و معاندت کے مظاہر بوسنیا و چیچنیا سے لے کر مشرق بعید (تھائی لینڈ ) اور پورے مشرق وسطیٰ تک اور چینی ترکستان سے لے کر اس برصغیر تک نظر آنے لگے ہیں اور اس بین الاقوامی ضلالت و معاندت کا دائرہ روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔"[13]

اب یہ بات سب جانتے ہیں کہ دہشت گردی کی کوئی معین تعریف ایسی نہیں جس پر دنیا میں سب متفق ہوں۔ دہشت گردی کی تعریف کے تعین کا کام اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے لیکن ویٹو طاقتیں بالخصوص امریکہ ، روس اور چین نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ سبب اس کا یہ ہے کہ وہ ریاستی دہشت گردی State Terrorism کو دہشت گردی کی سرکاری تعریف سے باہر رکھنا چاہتے ہیں جبکہ دنیا کے ملکوں کی اکثریت دہشت گردی کی تعریف میں کسی تفریق کی روادار نہیں۔ امریکہ اسرائیل ' برطانیہ ' روس اور چین وغیرہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور فوج سمیت تمام سرکاری سیکوریٹی فورسز کی کارروائیوں کو دہشت گردی کی جامع تعریف کے حصار سے باہر رکھنا چاہئے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ پولیس اور سیکوریٹی فورسیز کی دہشت گردی یا سرکاری دہشت گردی ہی دنیا کی تمام دہشت گردیوں کی جڑ اْم الارھاب ہے۔ دنیا کا کوئی حصہ اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تکنیکی طورپر بھی کم از کم تین صورتیں ایسی ہیں جن میں سرکاری سیکوریٹی فورسز ( فوج اور نیم فوجی دستوں وغیرہ) کو غیرجنگجو  NON COMBATANT  نہیں کہا جاسکتا۔ معروف عرب محقق "ثروت جمال اصمعی " نے لکھا ہے کہ مئی ۲۰۰۶ میں اقوام متحدہ کی سربراہ کانفرنس میں بھی دہشت گردی کی تعریف متعین کرنے کا مسئلہ اسی سوال پر آکر اٹک گیا تھا۔ اس کے بعد سے پھر کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ یہ بات ماننے کو سب تیار ہیں : '' معصوم شہریوں اور ان تمام لوگوں کے خلاف جو برسرجنگ نہ ہوں ' دانستہ تشدد' کی تمام شکلوں کی مذمت کی جانی چاہئے اور انہیں دہشت گردی پر مبنی اقدامات کی حیثیت سے غیر قانونی قرار دیا جانا چاہئے۔ اور اس کے لئے کسی جواز کو قبول نہ کرنا چاہئے۔ '' [14]

/ 0 نظر / 6 بازدید